ڈرون، مصنوعی ذہانت اور سفید رنگ: یورپ شدید گرمی سے بنیادی ڈھانچے کو بچانے کی دوڑ میں

ڈرون، مصنوعی ذہانت اور سفید رنگ: یورپ شدید گرمی سے بنیادی ڈھانچے کو بچانے کی دوڑ میں

یورپ: ریکارڈ توڑ گرمی کی لہروں کے باعث یورپ کے ریلوے نظام، سڑکیں، ہوائی اڈے اور بجلی کے نظام دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے یورپی ممالک جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ سادہ طریقے بھی استعمال کر رہے ہیں، جن میں ڈرون کے ذریعے نگرانی، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے سینسر اور ریل کی پٹریوں پر سفید رنگ کرنا شامل ہے۔

ناروے کے اوسلو ہوائی اڈے پر شدید گرمی کے دوران رن وے کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔ حکام گرمی برداشت کرنے والی نئی قسم کی سڑکوں اور رن وے کے مواد کی بھی آزمائش کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یورپ کا پرانا بنیادی ڈھانچہ موجودہ شدید موسمی حالات کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہے۔ زیادہ درجہ حرارت کے باعث ریلوے پٹریاں پھیل سکتی ہیں، سگنل کا نظام متاثر ہو سکتا ہے اور بجلی کی فراہمی میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

یورپی ممالک اب ریلوے پٹریوں کی نگرانی کے لیے ڈرون استعمال کر رہے ہیں جبکہ مصنوعی ذہانت والے نظام خرابیوں کی نشاندہی میں مدد دے رہے ہیں، تاکہ مسائل پیدا ہونے سے پہلے ان کا حل نکالا جا سکے۔

کچھ مقامات پر روایتی طریقے بھی آزمائے جا رہے ہیں۔ سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں میٹرو کی کچھ پٹریوں پر سفید رنگ کیا گیا تاکہ سورج کی گرمی کم جذب ہو اور پٹریوں کے مڑنے کا خطرہ کم کیا جا سکے۔

برطانیہ نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اپنے ریلوے نظام کو مضبوط بنانے پر اربوں پاؤنڈ خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ فرانس، اسپین اور دیگر ممالک بھی گرمی برداشت کرنے والی تعمیرات اور نئے ڈیزائن پر کام کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث گرمی کی لہریں اب زیادہ شدید، زیادہ بار بار اور زیادہ دیر تک جاری رہتی ہیں، اس لیے دنیا بھر کے ممالک کو اپنے بنیادی ڈھانچے کو نئے موسمی حالات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔

قومی خبریں سے مزید