پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کشیدگی عروج پر، 12 ہلاک، 4,000 رینجرز تعینات، میڈیا کوریج محدود
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں مظاہروں اور جھڑپوں کے بعد کم از کم 12 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 4,000 رینجرز اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کئی شہروں اور قصبوں کو بند کر دیا گیا ہے، جبکہ راولا کوٹ میں بدھ کو مظاہرین کے مظفرآباد کی جانب مارچ سے پہلے غیر اعلانیہ میڈیا پابندی نافذ ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
منگل کو ہونے والی جھڑپوں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی، جہاں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم کی اطلاعات سامنے آئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اقدامات کا مقصد امن و امان برقرار رکھنا ہے، جبکہ مظاہرین حکومت کی پالیسیوں اور مقامی مسائل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
مظاہرین کے مطالبات میں معاشی مسائل، بجلی کے نرخ، حکومتی اخراجات، مقامی اختیارات اور دیگر انتظامی معاملات شامل بتائے جا رہے ہیں۔
حالیہ صورتحال نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی اور انتظامی بحران کے خدشات بڑھا دیے ہیں، جبکہ مواصلاتی پابندیوں اور میڈیا رسائی محدود ہونے کے باعث زمینی صورتحال کی مکمل تصویر سامنے آنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔





