جنریٹو اے آئی کی طاقت، انسانوں کی ذہنی صلاحیت کمزور ہونے کے خدشات بڑھا رہی ہے

جنریٹو اے آئی کی طاقت، انسانوں کی ذہنی صلاحیت کمزور ہونے کے خدشات بڑھا رہی ہے

پیرس: مصنوعی ذہانت (Generative AI) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیتوں نے جہاں دنیا میں نئے مواقع پیدا کیے ہیں، وہیں ماہرین میں یہ خدشات بھی بڑھ رہے ہیں کہ اس پر ضرورت سے زیادہ انحصار انسانی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی سوچ کو متاثر کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اے آئی چیٹ بوٹس اب ای میلز لکھنے، کمپیوٹر کوڈ تیار کرنے، ترجمہ کرنے، سفر کی منصوبہ بندی اور مختلف تخلیقی کاموں میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ تاہم کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انسان ہر کام کے لیے مشین پر انحصار کرنے لگے تو دماغی صلاحیتوں کی مشق کم ہو سکتی ہے۔

تعلیمی اداروں میں بھی یہ بحث جاری ہے کہ طلبہ اگر ہوم ورک، تحقیق اور مسائل کے حل کے لیے مسلسل اے آئی استعمال کریں تو ان کی آزادانہ سوچ اور سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ بعض مطالعات میں اے آئی پر زیادہ انحصار کو تنقیدی سوچ میں کمی سے جوڑا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو مکمل متبادل کے بجائے ایک معاون ٹول کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ اسی وجہ سے بعض اے آئی ڈویلپرز ایسے فیچرز متعارف کرا رہے ہیں جو صارف کو براہ راست جواب دینے کے بجائے سوالات اور رہنمائی کے ذریعے خود سوچنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

دوسری جانب کئی ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ درست استعمال کی صورت میں اے آئی انسانی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتی ہے، تحقیق، تعلیم اور کام کی رفتار بہتر بنا سکتی ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ انسان ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائے لیکن اپنی بنیادی سوچنے اور سیکھنے کی صلاحیت کو برقرار رکھے۔

قومی خبریں سے مزید