بھارت میں ایتھنول کی پیداوار ضرورت سے بڑھ گئی، 700 کروڑ لیٹر اضافی صلاحیت کا کیا ہوگا؟

بھارت میں ایتھنول کی پیداوار ضرورت سے بڑھ گئی، 700 کروڑ لیٹر اضافی صلاحیت کا کیا ہوگا؟

بھارت نے پٹرول میں ایتھنول ملانے کے منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھاتے ہوئے مقررہ وقت سے پانچ سال پہلے ہی 20 فیصد ایتھنول آمیزش کا ہدف حاصل کر لیا، لیکن اب ایک نیا سوال پیدا ہو گیا ہے کہ کیا ملک نے اپنی موجودہ طلب سے زیادہ ایتھنول پیدا کرنے کی صلاحیت تو نہیں بنا لی؟

بھارت نے گزشتہ چند برسوں میں ایتھنول کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے بڑی سرمایہ کاری کی، جس کے نتیجے میں ملک میں ایتھنول تیار کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ تاہم اب اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ بھارت کے پاس تقریباً 700 کروڑ لیٹر اضافی ایتھنول پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جو موجودہ طلب سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

یہ اضافی صلاحیت اب حکومت اور صنعت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اندرونِ ملک اس اضافی ایتھنول کی ضرورت نہ رہی تو اس کا استعمال کیسے کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق ممکنہ راستوں میں ایتھنول کو برآمد کرنا، اسے صنعتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا، طیاروں کے ایندھن سمیت دیگر متبادل توانائی کے شعبوں میں شامل کرنا، یا مستقبل میں پٹرول میں ایتھنول کی آمیزش کا تناسب مزید بڑھانا شامل ہو سکتا ہے۔

بھارت نے ایتھنول پالیسی کو نہ صرف توانائی کے شعبے میں خود کفالت بلکہ کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور تیل کی درآمدات کم کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر پیش کیا تھا۔ ملک اپنی خام تیل کی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے حکومت کے لیے مقامی متبادل ایندھن کی پیداوار ایک اہم ترجیح رہی ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر طلب کے مطابق منصوبہ بندی نہ کی گئی تو اضافی پیداواری صلاحیت سرمایہ کاری کے ضیاع اور صنعت پر مالی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔

اب بھارت کے سامنے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنی بڑھائی گئی ایتھنول صلاحیت کو کس طرح مؤثر طریقے سے استعمال کرتا ہے تاکہ یہ اضافی پیداوار مسئلہ بننے کے بجائے توانائی کی حکمت عملی کا فائدہ مند حصہ ثابت ہو

قومی خبریں سے مزید