وانس نے اعتراف کیا کہ ایپسٹین دستاویزات کے اجرا سے نمٹنے میں ٹرمپ انتظامیہ سے غلطی ہوئی
امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے اعتراف کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات جاری کرنے کے معاملے کو مناسب انداز میں نہیں سنبھالا، خاص طور پر عوامی رابطوں اور وضاحت کے شعبے میں۔
وانس نے یہ بات “جو روگن ایکسپیرینس” پروگرام میں گفتگو کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا: “اگر لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے ایپسٹین دستاویزات کے اجرا کو غلط طریقے سے سنبھالا تو وہ درست کہتے ہیں۔ ہم نے اسے غلط طریقے سے سنبھالا، خاص طور پر اس کی ابلاغی حکمت عملی کے معاملے میں۔”
یہ بیان ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر اب تک کے واضح ترین اعترافات میں شمار کیا جا رہا ہے کہ ایپسٹین دستاویزات کا اجرا سیاسی نقصان کا باعث بنا۔
گزشتہ سال جب یہ دستاویزات جاری کی گئیں تو کئی حلقوں نے اس کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے تھے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اعلان کا انداز غیر واضح تھا اور دستاویزات میں کئی مقامات پر معلومات چھپانے یا حذف کرنے کے فیصلوں نے مزید شکوک پیدا کیے، جس کے نتیجے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ پر مسلسل سیاسی دباؤ بڑھتا گیا۔
وانس کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتظامیہ کے اندر بھی یہ احساس موجود ہے کہ اس معاملے کو عوام کے سامنے پیش کرنے کا طریقہ سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہوا





