ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی نصف سے زیادہ تعداد نے اسرائیلی امداد کم کرنے کے حق میں ووٹ دیا، پارٹی میں اختلافات گہرے ہو گئے

ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی نصف سے زیادہ تعداد نے اسرائیلی امداد کم کرنے کے حق میں ووٹ دیا، پارٹی میں اختلافات گہرے ہو گئے

واشنگٹن — امریکی ایوانِ نمائندگان میں نصف سے زیادہ ڈیموکریٹ ارکان نے بدھ کو اسرائیل کے لیے 3.3 ارب ڈالر کی امریکی امداد ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جو غزہ جنگ کے بعد اسرائیل کے لیے طویل عرصے سے قائم دو جماعتی حمایت میں بڑھتی ہوئی دراڑ کا سب سے نمایاں اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ ترمیم 104 کے مقابلے میں 314 ووٹوں سے ناکام ہو گئی اور وسیع تر قومی سلامتی اخراجاتی بل کا حصہ نہ بن سکی، تاہم ووٹنگ نے واضح کر دیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جنگی حکمت عملی کے بارے میں امریکی سیاست میں اختلافات کس حد تک بڑھ چکے ہیں۔

غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد کے معاملے پر شدید تقسیم سامنے آئی ہے۔ یہ جنگ اب اپنے تیسرے سال کے قریب پہنچ رہی ہے۔

ایوان کی ڈیموکریٹ قیادت بھی اس معاملے پر تقسیم نظر آئی۔ اس ووٹ کو آئندہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایک اہم سیاسی امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جن کے نتیجے میں کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ہوگا۔

100 سے زیادہ ڈیموکریٹ ارکان نے اسرائیل کے لیے فوجی امداد روکنے کی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ تقریباً اتنی ہی تعداد نے اس کی مخالفت کی۔ دوسری جانب زیادہ تر ریپبلکن ارکان نے اسرائیل کے لیے امداد برقرار رکھنے کی حمایت کی۔

یہ ووٹنگ اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل کے بارے میں امریکی سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جہاں ایک زمانے میں دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان پایا جانے والا وسیع اتفاق اب شدید بحث اور اختلاف میں بدلتا جا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید