نیویارک میں رانا مشہود کے پاکستان میں ترقی کے دعوے، حلقے میں کربلا مچی ہے،نیویارک میں وزیر کا چہکتا خطاب دیکھ سنکر حلقے کے عوام پھٹ پڑے

نیویارک میں رانا مشہود کے پاکستان میں ترقی کے دعوے، حلقے میں کربلا مچی ہے،نیویارک میں وزیر کا چہکتا خطاب دیکھ سنکر حلقے کے عوام پھٹ پڑے
رپورٹ آفاق فاروقی
نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ایک پروگرام میں شرکت کے لیے آئے ہوئے وزیر برائے یوتھ افیئرز رانا مشہود کی مسلم لیگ امریکہ کے کارکنوں سے پر خطاب کی خبر اور تقریب کی ویڈیو جب پاکستان پوسٹ نت وائرل کی اور رانا مشہود کے حلقے کے لوگوں نے خبر پڑھنے کے ساتھ ویڈیو دیکھی تو جیسے پھٹ ہی پڑے ،متعد افراد نے پاکستان پوسٹ سے بذریعہ واٹساپ رابطہ کیا اور کہا وزیر خود عیاشی کرتے پھر رہے ہیں اور علاقے کے لوگ مہینوں سے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں یہاں تک کے عید پر بھی حلقے کے گھروں میں پانی نہیں تھا ، کال کرنے والوں نے علاقے میں پانی کی صورت حال اور لوگوں کے غم و غصے پر مشتمل متعدد ویڈیو بھیجی ہیں جن میں سے ایک ویڈیو یہاں موجود ہے ، جس میں عام مرد و خواتین دہائیاں دے رہے اور حکمرانوں کے ترلے ڈالنے کے ساتھ انہیں کوس بھی رہے ، وفاقی کابینہ کے وزیر برائے امورِ نوجوانان رانا مشہود جب کا یہاں نیویارک میں خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعوے تھا کہ پاکستان میں حکومت لاکھوں نوجوانوں کو جدید مہارتیں سکھا رہی ہے، لاکھوں کو روزگار فراہم کیا جا رہا ہے اور ہزاروں نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے دنیا کی ممتاز جامعات تک پہنچایا جا رہا ہے، اور عوام کے بنیادی مسائل تیزی سے حل کیے جارہے ہیں تاہم حال یہ ہے لاہور جسے ملک کا دل قرار دیا جاتا ہے اور جسے مسلم لیگ ن کا قلعۂ تو میاں نواز شریف خاندان کی حکمرانی کے تناظر میں تخت لاہور کے نام سے پکارا جاتا ہے اور جس کے حوالے سے مسلم لیگ ن پر ہمیشہ سے الزام ہے وہ صوبے کے دیہی علاقوں کا بجٹ بھی لاہور پر خرچ کرتی ہے مگر جہاں ایک طرف لاہور کی ساٹھ فیصد آبادی کو آج تک صاف پانی تو دوسری طرف شہر کے ایک بڑے حصے کو مستقل پانی بھی فراہم نہیں کیا جاسکا ہے، رانا مشہود کے حلقے کے ایک بزرگ جنہوں نے سب سے پہلے رابطہ کیا ان کا کہنا تھا “ بھای آپ جو کوئ بھی ہیں اس شخص سے رانا مشہود سے پوچھیں “ ہمدرد حساس اور حکمراں آپ جیسے ہوتے ہیں کے علاقے کے لوگ آپ سے رابطہ کر کر کے تھک گئے مگر آپ نے قسم کھا رکھی ہے جب تک انتخابات دوبارہ نہیں ہوتے آپ حلقے میں لوٹ کر نہیں آئیں گے
حلقے سے ایسی ویڈیوز پاکستان پوسٹ کو بھیجی گئی ہیں جن میں خواتین، بزرگ اور بچے پانی کی ایک ایک بوند کے لیے فریاد کرتے دکھائی دیتے ہیں،
ان ویڈیوز میں ، نیازی اڈہ ، چوک یتیم خانہ سے مورا شریف اور گرد و نواح کے رہائشی دعویٰ کرتے ہیں کہ کئی ماہ سے ان کے علاقے میں پانی کی فراہمی شدید متاثر ہے، ان کے مطابق ٹیوب ویل خراب ہونے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی، متعدد درخواستوں کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوا، جبکہ پانی کے بل مسلسل وصول کیے جا رہے ہیں، کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ دوسرے محلوں، مساجد یا فلٹر پلانٹس سے پانی لانے پر مجبور ہیں، جبکہ بعض خواتین نے بتایا کہ روزانہ کئی کئی گھنٹے صرف پانی کی تلاش میں گزر جاتے ہیں
ویڈیومیں دکھائی دینے والے چھوٹے بچے، خالی بالٹیاں، پریشان مائیں اور بزرگ صرف پانی نہیں مانگ رہے، بلکہ وہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری کی یاد دہانی کرا رہے ہیں،پانی، جو ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اگر اس کے لیے بھی لوگ دروازے دروازے جائیں تو ترقی کے بلند دعوے عام آدمی کی زندگی میں اپنی معنویت کھو دیتے ہیں
پاکستان پوسٹ میں رانا مشہود کی نیویارک میں مسلم لیگی کارکنوں سے خطاب کی خبر وائرل ہوتے ہی رانا مشہود کے حلقے کے متعدد افراد نے رابطہ کیابعض کال کرنے والوں نے اپنا تعلق اسی علاقے سے بتایا اور مزید ویڈیوز اور تصاویر بھی ارسال کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گرمی کی شدت، پانی کی قلت، بجلی کے مسائل اور مہنگائی نے روزمرہ زندگی کو انتہائی دشوار بنا دیا ہے، کال کرکے رابطہ کرنے والوں کے دعوؤں کی فوری طور پر تصدیق ممکن نہیں تاہم یہ شکایات اس بات کی غمازی ضرور کرتی ہیں کہ متاثرہ شہری خود کو نظرانداز محسوس کر رہے ہیں
یہ معاملہ صرف ایک محلے یا ایک ٹیوب ویل کا نہیں، بلکہ حکمرانی کے اس بنیادی سوال کا ہے کہ حکمرانوں کی اولین ترجیح کیا ہے؟ اگر ایک منتخب نمائندہ عالمی فورمز اور اوورسیز پاکستانیوں کے سامنے ترقیاتی منصوبوں کے دعوے کرے، تو اس کے اپنے حلقے کے شہری یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ ان کی روزمرہ مشکلات بھی اسی سنجیدگی سے سنی جائیں
اس ساری صورتحال میں ایک سوال بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی ہے، امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک میں جب پاکستانی سیاسی رہنما تقریبات میں شریک ہوتے ہیں تو ان کی میزبانی کی جاتی ہے، ان کے اعزاز میں اجتماعات منعقد ہوتے ہیں اور ان کی تقاریر توجہ سے سنی جاتی ہیں،مگر جمہوری معاشروں کی اصل روایت صرف استقبال نہیں، بلکہ عوامی نمائندوں سے جوابدہی بھی ہے
اگر ترقی، اصلاحات اور عوامی خدمت کے دعوے کیے جاتے ہیں تو یہ پوچھنا بھی جمہوری حق ہے کہ کیا ان دعوؤں کا عکس ان حلقوں میں بھی نظر آتا ہے جہاں سے یہ نمائندے منتخب ہو کر آئے ہیں؟ کیا وہاں پینے کا پانی، بنیادی سہولتیں اور بنیادی شہری سہولیات عوام کو میسر ہیں؟
جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں، بلکہ مسلسل احتساب کا عمل ہے،عوام کا سوال یہی ہے کہ اگر بنیادی سہولتیں ہی مہیا نہ ہوں تو ترقی کے بڑے بڑے اعلانات ان لوگوں کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں جو آج بھی پانی کی ایک بالٹی کے لیے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں؟
نوٹ: اس تحریر میں پانی کی قلت، سرکاری اداروں سے رابطوں اور عوامی مشکلات سے متعلق تمام دعوے ویڈیوز میں موجود شہریوں کے بیانات اور پاکستان پوسٹ کو موصول ہونے والی شکایات پر مبنی ہیں

قومی خبریں سے مزید