اٹلی کی سپریم کورٹ نے پاکستانی نژاد 18 سالہ سمن عباس کے قتل کے مقدمے میں ان کے والدین، چچا اور دو کزنز کی سزاؤں کو برقرار رکھتے ہوئے فیصلہ سنایا ہے
اٹلی کی سپریم کورٹ نے پاکستانی نژاد 18 سالہ سمن عباس کے قتل کے مقدمے میں ان کے والدین، چچا اور دو کزنز کی سزاؤں کو برقرار رکھتے ہوئے فیصلہ سنایا ہے۔ سمن عباس کو 2021 میں مبینہ طور پر اس لیے قتل کیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے خاندان کی جانب سے طے شدہ شادی سے انکار کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد مقدمہ قانونی طور پر اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔
عدالت نے سمن عباس کے والد شبیر عباس، والدہ نازیہ شاہین، چچا دانش حسنین اور دو کزنز کے خلاف قتل کی سزائیں برقرار رکھیں۔ یہ مقدمہ اٹلی میں نام نہاد “غیرت کے نام پر قتل” کے نمایاں ترین مقدمات میں شمار کیا جاتا ہے اور اس نے خواتین کے حقوق اور جبری شادیوں کے خلاف جاری بحث کو مزید تقویت دی ہے۔
اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کوئی بھی عدالتی فیصلہ سمن عباس کی جان واپس نہیں لا سکتا، لیکن ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی میں خواتین کی آزادی، عزت اور زندگی پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا، خواہ اسے ثقافتی یا مذہبی جواز دینے کی کوشش ہی کیوں نہ کی جائے۔
سمن عباس 2021 میں شمالی اٹلی کے علاقے نوویلارا سے لاپتا ہو گئی تھیں، جبکہ ان کی باقیات نومبر 2022 میں ایک فارم ہاؤس کے قریب سے برآمد ہوئی تھیں۔ استغاثہ کے مطابق انہیں خاندان کی مرضی کے خلاف شادی سے انکار کرنے پر قتل کیا گیا تھا۔





