پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے جامعہ دارالعلوم کراچی سے درخواست کی ہے کہ وہ خالصتاً قیاس آرائی پر مبنی کرپٹو کرنسیوں اور حقیقی اثاثوں سے منسلک ڈیجیٹل ٹوکنز کے درمیان واضح شرعی فرق بیان کرے۔ یہ درخواست اس فتوے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے خرید و فروخت کو غیر شرعی قرار دیا گیا تھا۔
بلال بن ثاقب کا کہنا ہے کہ تمام ڈیجیٹل اثاثوں کو ایک ہی زمرے میں رکھ کر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ہر ڈیجیٹل اثاثے کا الگ الگ جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا وہ شریعت کی رو سے قابلِ قبول مال کی حیثیت رکھتا ہے یا نہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ سونے سے منسلک ٹوکنز، مکمل ذخائر سے محفوظ اسٹیبل کوائنز اور بلاک چین پر مبنی صکوک ایسے اثاثے ہیں جن کے پیچھے حقیقی مال یا جائیداد موجود ہوتی ہے، اس لیے ان کا شرعی حکم خالصتاً قیاس آرائی پر مبنی کرپٹو کرنسیوں سے مختلف ہو سکتا ہے۔ تاہم بغیر کسی حقیقی اثاثے کے صرف قیاس آرائی پر مبنی ٹوکنز کے بارے میں علما کے تحفظات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔
چیئرمین پی وی اے آر اے نے کہا کہ حکومت اور ریگولیٹری ادارہ جامعہ دارالعلوم کے علما کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ پاکستان میں شریعت سے ہم آہنگ ڈیجیٹل مالیاتی نظام تشکیل دیا جا سکے اور مستقبل میں کرپٹو اثاثوں کے لیے واضح اور مؤثر ضابطہ کار وضع کیا جا سکے۔





