ارجنٹائن فٹبال اسکینڈل، فیفا پر ورلڈ کپ میں جانبداری کے الزامات، تحقیقاتی رپورٹ نے نئے سوالات اٹھا دیے
عالمی کپ ۲۰۲۶ کے دوران ارجنٹائن فٹبال ٹیم اور فیفا سے متعلق ایک نئے اسکینڈل نے عالمی فٹبال میں تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ارجنٹائن فٹبال فیڈریشن کے خلاف امریکی تحقیقاتی ادارے کی تحقیقات میں سامنے آنے والے معاملات محض مالی بے ضابطگیوں تک محدود نہیں بلکہ یہ فیفا کی تاریخ کے بڑے ترین اسکینڈلز میں سے ایک قرار دیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ارجنٹائن فٹبال فیڈریشن کے خلاف تحقیقات میں مبینہ مالی جرائم اور رقم کی غیر قانونی منتقلی جیسے الزامات سامنے آئے ہیں، جبکہ بعض مبصرین نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا عالمی کپ کے بعض فیصلوں میں کسی قسم کا اثر و رسوخ یا جانبداری شامل تھی۔
عالمی کپ کے دوران ارجنٹائن کی ٹیم اس وقت بھی تنازع کا شکار ہوئی جب اس نے مصر کے خلاف ناک آؤٹ مرحلے میں دو گول سے پیچھے ہونے کے بعد شاندار واپسی کرتے ہوئے مقابلہ تین دو سے جیت لیا۔ اس میچ کے بعد بعض کھلاڑیوں اور ٹیم انتظامیہ کی جانب سے عالمی فٹبال کی تنظیم پر الزام لگایا گیا کہ وہ موجودہ عالمی چیمپئن کو تجارتی مقاصد کے لیے فائدہ پہنچا رہی ہے۔
تاہم اب تک ایسے الزامات کے حق میں کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا اور فیفا یا ارجنٹائن فٹبال حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی گئی۔
تحقیقاتی صحافی رومین مولینا کی رپورٹ میں ارجنٹائن فٹبال فیڈریشن کے حوالے سے کئی سنگین الزامات شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ انکشافات عالمی فٹبال میں شفافیت، انتظامی نظام اور بڑے ٹورنامنٹس کے فیصلوں پر ایک بار پھر بحث کو جنم دے سکتے ہیں۔
فیفا ماضی میں بھی بدعنوانی اور انتظامی تنازعات کے الزامات کا سامنا کرتی رہی ہے، تاہم ادارہ ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کے مقابلوں کے فیصلے قوانین اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق کیے جاتے ہیں۔
عالمی کپ کے آخری مرحلے میں داخل ہونے کے ساتھ ارجنٹائن سے متعلق یہ تنازع اس سوال کو مزید نمایاں کر رہا ہے کہ جدید فٹبال میں کھیل، سیاست، کاروبار اور طاقت کے تعلقات کس حد تک ایک دوسرے پر اثر انداز ہو رہے ہیں





