مصنوعی ذہانت کا دور آ گیا، پاکستان تیاری کے بغیر خطرات اور مواقع کے درمیان کھڑا ہے
اسلام آباد — مصنوعی ذہانت اب مستقبل کا کوئی تصور نہیں بلکہ موجودہ حقیقت بن چکی ہے، لیکن پاکستان اس تیز رفتار تکنیکی انقلاب کے لیے ابھی تک پوری طرح تیار دکھائی نہیں دیتا۔ ماہرین کے مطابق اگر ملک نے بروقت حکمت عملی نہ بنائی تو مصنوعی ذہانت کے فوائد حاصل کرنے کے بجائے اس کے معاشی اور روزگار سے متعلق خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
معاشی تجزیہ کار افشاں صبوحی کے مطابق دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی تبدیلی کی صلاحیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے، لیکن ترقی یافتہ ممالک کے ماہرین اور کاروباری رہنما بھی ابھی تک اس کے مکمل اثرات کو سمجھنے اور سنبھالنے کے حوالے سے مکمل طور پر پُراعتماد نہیں ہیں۔
پاکستان کی صورتحال اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے، کیونکہ ملک ابھی ڈیجیٹل ترقی کے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ کمزور اور بکھرے ہوئے ڈیٹا نظام، محدود ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور پالیسی سطح پر تیاری کی کمی مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیاری نہ ہونے سے پاکستان مصنوعی ذہانت کے ممکنہ نقصانات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اگر دنیا بھر میں روزگار کے طریقے تبدیل ہو رہے ہیں تو پاکستان میں بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے، لیکن مناسب منصوبہ بندی کے ذریعے اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے بارے میں ایک عجیب صورتحال نظر آتی ہے۔ ایک طرف نوجوانوں، خاص طور پر تعلیم یافتہ طبقے اور خدمات کے شعبے سے وابستہ افراد میں چیٹ جی پی ٹی اور دیگر مصنوعی ذہانت کے آلات کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ملک میں اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کی وسیع دستیابی ہے۔
دوسری جانب بہت سے لوگ اس بات سے خوف زدہ ہیں کہ مصنوعی ذہانت پہلے ہی محدود روزگار کے مواقع کو مزید کم کر سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ شعبے جہاں دفتری، انتظامی یا معمول کے کام زیادہ ہوتے ہیں، وہاں ملازمتوں کے مستقبل کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔
کاروباری دنیا میں صورتحال مختلف ہے۔ بہت سی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کو کم لاگت، بہتر کارکردگی اور پیداوار میں اضافے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ ادارے ایسے نظام تلاش کر رہے ہیں جو کام کو تیز کر سکیں اور اخراجات کم کر سکیں۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر مصنوعی ذہانت کے فوائد صرف بڑے کاروباری اداروں تک محدود رہے اور کارکنوں کی تربیت، تعلیم اور نئی مہارتوں پر توجہ نہ دی گئی تو معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کو خطرے کے بجائے ایک قومی ترقیاتی موقع میں تبدیل کرے۔ اس کے لیے بہتر ڈیٹا نظام، جدید تعلیمی نصاب، نوجوانوں کے لیے نئی مہارتوں کی تربیت، تحقیق میں سرمایہ کاری اور واضح حکومتی پالیسی کی ضرورت ہے۔
دنیا مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ پاکستان کے پاس اب انتخاب یہ نہیں کہ وہ اس تبدیلی کو قبول کرے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ اس تبدیلی کے لیے کتنی تیاری کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ اگر بروقت اقدامات کیے گئے تو مصنوعی ذہانت ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن تاخیر کی صورت میں یہ معاشی دباؤ اور روزگار کے مسائل کو مزید بڑھا سکتی ہے




