مانسہرہ، ناران، جلکھڈ شاہراہ پر مٹی کے تودے گرنے سے سیاح پھنس گئے، بارشوں کے باعث سیلابی خطرات میں اضافہ

مانسہرہ، ناران، جلکھڈ شاہراہ پر مٹی کے تودے گرنے سے سیاح پھنس گئے، بارشوں کے باعث سیلابی خطرات میں اضافہ

مانسہرہ — خیبر پختونخوا کے سیاحتی علاقے کاغان وادی میں شدید بارشوں کے بعد مٹی کے تودے گرنے سے مانسہرہ، ناران، جلکھڈ شاہراہ بند ہو گئی، جس کے باعث بڑی تعداد میں مسافر ایک گھنٹے سے زائد وقت تک سڑک کے دونوں اطراف پھنسے رہے۔

واقعہ ہفتے کی رات خانیاں کے علاقے میں پیش آیا، جہاں پہاڑی تودے گرنے سے بڑی چٹانیں اور ملبہ سڑک پر آ گیا اور ٹریفک معطل ہو گئی۔

اس شاہراہ کو خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور مانسہرہ کے مختلف علاقوں کے درمیان آمد و رفت کے لیے اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ سڑک بند ہونے کے باعث سیاحوں اور مقامی مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بالاکوٹ کے اسسٹنٹ کمشنر حسرت خان نے بتایا کہ کاغان وادی میں شدید بارشوں کے باعث دریائے کنہار اور مقامی ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہو گئی، جس کے نتیجے میں مٹی کے تودے گرے اور بھاری پتھروں سمیت ملبہ شاہراہ پر آ گیا۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے فوری طور پر بھاری مشینری روانہ کی، جس کی مدد سے ملبہ ہٹا کر راستہ بحال کر دیا گیا اور ٹریفک دوبارہ شروع ہو گئی۔

دوسری جانب مانسہرہ، بالائی کوہستان، زیریں کوہستان اور تورغر کی ضلعی انتظامیہ نے شہریوں اور سیاحوں کے لیے الگ الگ احتیاطی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

انتظامیہ نے لوگوں کو دریاؤں، ندی نالوں اور ایسے علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے جہاں سیلاب یا لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہو۔

یہ انتباہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی تازہ ہدایات کے بعد جاری کیا گیا، جس میں مسلسل مون سون بارشوں کے باعث گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے، اچانک سیلاب اور پہاڑی تودے گرنے کے خطرات سے خبردار کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق شمالی علاقوں میں مون سون کے دوران پہاڑی راستوں پر سفر کرنے والوں کو موسم کی صورتحال، مقامی انتظامیہ کی ہدایات اور سڑکوں کی حالت سے باخبر رہنا چاہیے، کیونکہ شدید بارشوں کے دوران اچانک لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلے بڑے خطرات پیدا کر سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید