ہیرس 2028 میں اتریں تو نیوزوم کا راستہ بند، ڈیموکریٹس کے سامنے اصل سوال امیدوار نہیں سیاست کی سمت ہے

ہیرس 2028 میں اتریں تو نیوزوم کا راستہ بند، ڈیموکریٹس کے سامنے اصل سوال امیدوار نہیں سیاست کی سمت ہے

واشنگٹن: امریکی صدارتی سیاست میں 2028 کی دوڑ ابھی باضابطہ طور پر شروع بھی نہیں ہوئی، لیکن ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ممکنہ امیدواروں کی صف بندی نے ایک بنیادی سوال کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے،کیا پارٹی 2024 کی شکست کے بعد اپنی سیاسی حکمت عملی اور عوام سے رابطے کا انداز تبدیل کرے گی یا اسی سیاسی سمت کو نئے چہرے کے ساتھ آگے بڑھائے گی؟
کیلیفورنیا کے ڈیموکریٹک گورنر گیون نیوزوم نے سی این این کے جیک ٹیپر کے ساتھ انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ اگر سابق نائب صدر کمالا ہیرس 2028 میں صدارتی دوڑ میں شامل ہوتی ہیں تو وہ خود امیدوار نہیں بنیں گے،نیوزوم نے کہا کہ دونوں کے حامیوں اور سیاسی حلقوں میں اتنی زیادہ مماثلت ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف پرائمری لڑنا دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگا اور مخالفین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا
نیوزوم کا یہ بیان اس لیے اہم ہے کہ وہ 2028 کے ممکنہ ڈیموکریٹک امیدواروں میں نمایاں نام سمجھے جاتے ہیں، جبکہ ہیرس نے ابھی 2028 کی صدارتی امیدواری کا باضابطہ اعلان نہیں کیا،تاہم 2026 میں کیلیفورنیا کے گورنر کے انتخاب میں حصہ نہ لینے کا ہیرس کا فیصلہ اور ان کی قومی سطح پر سیاسی سرگرمیاں ان کے مستقبل کے سیاسی عزائم کے بارے میں قیاس آرائیوں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں
اصل سیاسی اہمیت نیوزوم اور ہیرس کے باہمی مقابلے سے آگے جاتی ہے،2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیرس کو شکست دی اور انتخابی تجزیوں میں مہنگائی، معیشت اور امیگریشن اہم عوامل کے طور پر سامنے آئے،رائٹرز کے انتخابی جائزے میں بھی بلند قیمتوں اور غیر قانونی امیگریشن کو ٹرمپ کی مہم کے نمایاں موضوعات قرار دیا گیا تھا
اسی لیے ڈیموکریٹس کے اندر ممکنہ 2028 کی بحث صرف اس بات تک محدود نہیں کہ ہیرس، نیوزوم یا کوئی دوسرا رہنما امیدوار بنتا ہے،بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ پارٹی امیگریشن، معیشت، تجارت، خارجہ پالیسی اور ثقافتی معاملات پر عوام سے کس زبان میں بات کرے گی اور 2024 میں جن ووٹر گروپوں میں اسے نقصان ہوا، ان سے دوبارہ کیسے رابطہ قائم کرے گی
خاص طور پر ہیرس کے معاملے میں نسل اور جنس کو نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا، لیکن انہیں شکست کی واحد وجہ قرار دینا بھی اعداد و شمار سے ثابت نہیں ہوتا،پیو ریسرچ کے مطابق 2024 میں ہیرس کے ووٹروں کا 16 فیصد حصہ غیر ہسپانوی سیاہ فام ووٹرز اور 11 فیصد ہسپانوی ووٹرز پر مشتمل تھا، جبکہ ٹرمپ کے ووٹر اتحاد میں بھی ہسپانوی، سیاہ فام اور ایشیائی ووٹروں کا حصہ 2016 کے مقابلے میں بڑھا،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتخابی سیاست میں نسلی شناخت کے ساتھ معاشی، تعلیمی، عمر اور دیگر سیاسی عوامل بھی ایک ساتھ اثر انداز ہوتے ہیں
ہیرس کی 2024 کی مہم کے بارے میں بعد کے تجزیوں میں بھی یہ سامنے آیا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ وہ پہلی خاتون اور پہلی سیاہ فام و ایشیائی نژاد امیدوار تھیں،انتخابی اعداد کے تجزیوں میں نوجوان ووٹروں، خصوصاً نوجوان ہسپانوی اور ایشیائی ووٹروں میں ڈیموکریٹس کی 2020 کے مقابلے میں حمایت کم ہونے کی نشاندہی کی گئی
اس پس منظر میں بعض تجزیہ نگاروں کا یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ ڈیموکریٹس نے 2024 میں ایک ایسے امیدوار اور سیاسی پیغام پر انحصار کیا جو پارٹی کے روایتی حامیوں کو تو متحرک کر سکتا تھا، لیکن وسیع تر ووٹر طبقے، خصوصاً اقتصادی دباؤ اور امیگریشن جیسے معاملات پر فکرمند ووٹروں کو پوری طرح قائل نہیں کر سکا
اسی لیے یہ کہنا بھی قبل از وقت ہوگا کہ اگر ہیرس 2028 میں دوبارہ امیدوار بنتی ہیں تو اس کا لازماً مطلب یہ ہوگا کہ ڈیموکریٹس نے ریپبلکن پالیسیوں کو جاری رکھنے یا ریپبلکن کو دوبارہ اقتدار دینے کا فیصلہ کر لیا ہے،انتخابی نتیجہ ابھی غیر یقینی ہے اور 2028 تک امریکی معیشت، امیگریشن، ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں، عالمی حالات اور ڈیموکریٹک پارٹی کی اپنی حکمت عملی میں کئی تبدیلیاں آ سکتی ہیں
البتہ نیوزوم کا تازہ بیان ایک بات ضرور واضح کرتا ہے،اگر ہیرس دوبارہ صدارتی دوڑ میں شامل ہوتی ہیں تو کم از کم ایک اہم ممکنہ ڈیموکریٹک امیدوار ان کے مقابلے سے دستبردار ہونے کا اعلان کر چکا ہے،یوں 2028 کی بحث اب صرف یہ نہیں رہی کہ کون صدر بننے کی خواہش رکھتا ہے، بلکہ یہ بھی سوال بن گئی ہے کہ ڈیموکریٹس 2024 کی شکست سے کیا سیاسی سبق اخذ کرتے ہیں اور آئندہ انتخابات کے لیے اپنا پیغام کس حد تک تبدیل کرتے ہیں

قومی خبریں سے مزید