مصنوعی ذہانت سے بڑھتی بے روزگاری کے خدشات، امریکی کارکنوں کی بڑی تعداد ٹیکنالوجی دولت فنڈ کے حق میں

مصنوعی ذہانت سے بڑھتی بے روزگاری کے خدشات، امریکی کارکنوں کی بڑی تعداد ٹیکنالوجی دولت فنڈ کے حق میں

واشنگٹن — امریکا میں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی ملازمتوں میں کمی کے پس منظر میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ ایک تازہ سروے کے مطابق امریکی کارکنوں کی اکثریت چاہتی ہے کہ مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے والی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایک عوامی دولت فنڈ میں حصہ ڈالنے کا پابند کیا جائے تاکہ اس نئی ٹیکنالوجی کے معاشی اثرات سے عام شہریوں کو بھی فائدہ پہنچ سکے۔

تحقیقی ادارے ویرا سائٹ کے سروے کے مطابق تقریباً ۶۹ فیصد امریکی شہری اس تجویز کی حمایت کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے حصص کا ۵۰ فیصد حصہ ایک عوامی خودمختار دولت فنڈ میں منتقل کریں۔

یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی ٹیکنالوجی صنعت میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کے باعث ملازمتوں کے مستقبل پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ کئی کمپنیوں نے اخراجات کم کرنے، خودکار نظام اپنانے اور نئی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ملازمین کی تعداد میں کمی کی ہے۔

کارکنوں کا ایک بڑا طبقہ سمجھتا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت سے کمپنیوں کے منافع میں اضافہ ہو رہا ہے تو اس کے فوائد صرف سرمایہ کاروں تک محدود نہیں رہنے چاہییں بلکہ معاشرے کے عام افراد کو بھی اس ترقی میں شریک ہونا چاہیے۔

خودمختار دولت فنڈ ایک ایسا مالیاتی ادارہ ہوتا ہے جس میں جمع سرمایہ کو طویل مدت کے لیے سرمایہ کاری، عوامی منصوبوں یا معاشی تحفظ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک ایسے فنڈز چلاتے ہیں جو قومی آمدنی یا قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی دولت کو مستقبل کے لیے محفوظ کرتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایسے فنڈ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والی معاشی عدم مساوات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت کے باعث کچھ شعبوں میں ملازمتیں کم ہوتی ہیں تو فنڈ سے حاصل ہونے والی آمدنی کو کارکنوں کی تربیت، تعلیم اور معاشی مدد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تاہم اس تجویز کے مخالفین کئی سوالات اٹھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نجی کمپنیوں کے حصص کا اتنا بڑا حصہ زبردستی لینا سرمایہ کاری، جدت اور کاروباری آزادی کو متاثر کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں امریکا کو اپنی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو کمزور کرنے کے بجائے مضبوط رکھنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے دور میں اصل چیلنج یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور عوامی مفاد کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ ایک طرف مصنوعی ذہانت پیداوار، طب، تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں انقلاب لا سکتی ہے، دوسری طرف اس کے باعث روزگار کی نوعیت میں بڑی تبدیلیاں بھی آ سکتی ہیں۔

امریکی کارکنوں کی بڑھتی ہوئی تشویش اس بات کی علامت ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ٹیکنالوجی کا موضوع نہیں رہی بلکہ روزگار، آمدنی اور معاشی انصاف کا مرکزی مسئلہ بن چکی ہے۔ آنے والے برسوں میں حکومتوں اور کمپنیوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی دولت کس طرح زیادہ وسیع پیمانے پر تقسیم کی جائے

قومی خبریں سے مزید