امریکا کے بعد کی عالمی معیشت، دنیا میں طاقت کے بدلتے توازن کی نئی کہانی
واشنگٹن — عالمی معیشت ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں امریکا کی روایتی معاشی بالادستی کو پہلے جیسا تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی معیشت کے سربراہ ایڈم پوزن کے مطابق دنیا ایک ایسے معاشی مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے جسے “امریکا کے بعد کی عالمی معیشت” کہا جا سکتا ہے، جہاں عالمی تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی فیصلوں میں امریکا کا کردار ماضی کے مقابلے میں کم ہو رہا ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا نے ایک ایسا عالمی معاشی نظام قائم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا جس کی بنیاد آزاد تجارت، قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی تعاون پر رکھی گئی تھی۔ اس نظام نے کئی دہائیوں تک دنیا کے ممالک کو معاشی ترقی کے مواقع فراہم کیے اور عالمی تجارت کو نسبتاً مستحکم رکھا۔
ایڈم پوزن کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ اب یہ نظام دباؤ کا شکار ہے۔ امریکا کی جانب سے عالمی معاشی قیادت میں کمی، تجارتی تنازعات، بڑھتی ہوئی قوم پرستی اور بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے نے دنیا کے معاشی ماحول کو زیادہ غیر یقینی بنا دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں امریکا عالمی معیشت کے لیے ایک ایسے ستون کی حیثیت رکھتا تھا جو محفوظ سرمایہ کاری، کھلی تجارت اور عالمی مالیاتی استحکام کی ضمانت فراہم کرتا تھا۔ لیکن اب بہت سے ممالک اپنی معاشی حکمت عملی میں امریکا پر مکمل انحصار کے بجائے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔
چین کا بڑھتا ہوا معاشی اثر، یورپ کی خود مختار معاشی پالیسیوں کی کوششیں اور ترقی پذیر ممالک کا نئے شراکت داروں کی طرف رجوع اس تبدیلی کا حصہ ہیں۔ دنیا اب ایک ایسے نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں ایک واحد طاقت کے بجائے کئی معاشی مراکز اہم کردار ادا کریں گے۔
تاہم پوزن یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ امریکا کی معاشی طاقت ختم نہیں ہوئی۔ امریکی معیشت اب بھی دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، مالیاتی نظام اور جدت کے شعبوں میں اس کی برتری برقرار ہے۔ مسئلہ طاقت کے خاتمے سے زیادہ عالمی قیادت کے انداز میں تبدیلی کا ہے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں عالمی معیشت کا سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ کیا دنیا ایک نئے متوازن نظام کی طرف جائے گی یا مختلف طاقتوں کے درمیان معاشی کشمکش مزید بڑھے گی۔ اگر ممالک تعاون کے بجائے مقابلے اور پابندیوں کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو عالمی ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔
ایڈم پوزن کا تجزیہ اس بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے کہ ۲۱ویں صدی کی عالمی معیشت اب صرف امریکی فیصلوں کے گرد نہیں گھومے گی۔ دنیا ایک نئے معاشی نقشے کی تشکیل کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں طاقت کا مرکز ایک جگہ محدود رہنے کے بجائے مختلف خطوں میں تقسیم ہو رہا ہے۔





