نیویارک کی پاکستان ڈے پریڈ: اِس سے پہلے بُو چھوڑ دے دفنا دی جائے

نیویارک کی پاکستان ڈے پریڈ: اس پہلے کے بُو چھوڑ دے دفنا دی جائے
آفاق فاروقی

پاکستان ڈے پریڈ کے قاسم مجید گروپ کی پریس کانفرنس میں بیٹھا تھا مگر ذہن میں جیسے ایک ڈاکومنٹری فلم سے چل رہی تھی ، پاکستان ڈے پریڈ نیویارک امریکہ ، مینہٹن ۔۔ امریکہ میں پاکستانیوں کا اتنا بڑا اجتماع دیکھنے کا پہلا موقع تھا کہ ہر عمر ہر زبان کے ہزاروں خواتین بچے بوڑھے جوان ، خوشی اور حیرت میں مبتلا جیسے رن پڑا ہوا تھا کہ کس کا پلڑا بھاری ہے ، کے ہم امریکہ میں اتنا بڑا ایسا شاندار شو اتنا بڑا مجمعہ ،۔۔ نیویارک مین ہٹن کی سڑکوں پر ایک وقت تھا جب پاکستان ڈے پریڈ پاکستانی امریکی کمیونٹی کی طاقت، شناخت اور اجتماعی اعتماد کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ انیس سو پچاسی اور چھیاسی کے قریب شروع ہونے والی یہ پریڈ اس دور میں سامنے آئی جب نیویارک میں بھارتی نژاد امریکی کمیونٹی انڈیا ڈے پریڈ کے ذریعے اپنی موجودگی کا اظہار کر رہی تھی اور پاکستانی کمیونٹی میں بھی یہ احساس پیدا ہوا کہ اپنی قومی شناخت، ثقافت اور اجتماعی طاقت کو اسی انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا جائے
ابتدائی برسوں میں پاکستان ڈے پریڈ ایک بڑی عوامی تقریب بن گئی۔ مین ہٹن کی سڑکوں پر پاکستانی پرچم، ثقافتی فلوٹس، موسیقی، فنکار، کمیونٹی رہنما اور ہزاروں افراد شریک ہوتے،پریڈ کا آغاز میڈیسن ایونیو فورٹی سیکنڈ یا فورٹی سیون اسٹریٹ سے شروع ہوتا ، سڑک کے دونوں طرف سینکڑوں پاکستان ہاتھوں میں پاکستانی جھنڈے اٹھائے، خوشی سے تمتاتے چہرے جوش و خروش ، وطن سے محبت عقیدت و احترام دیدنی کہ فرط جذبات سے آنکھیں بھیگ جاتیں ، پھر اسی میڈیسن ایونیو پر ستائیس اسٹریٹ کے آس پاس بعد میں ثقافتی پروگرام اور میلہ منعقد ہوتا۔ ابتدائی سالوں میں ہزاروں افراد کی شرکت اور درجنوں فلوٹس اس بات کی علامت تھے کہ ایک نئی تارک وطن کمیونٹی امریکہ کے سب سے بڑے شہر میں اپنی جگہ بنا رہی ہے، اور تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے
اس دور میں پاکستان سے سرکاری وفود بھی شریک ہوتے رہے، ثقافتی پروگرام بھی ہوتے، فوجی بینڈ بھی آتے جو بعد میں بھاگتے اور بھگائے جانے لگے اور امریکی میڈیا میں پاکستان کے تماشے کا سبب بنے اور یہ تقریب پاکستان اور پاکستانی امریکی کمیونٹی کے درمیان جب ایک رابطے کا ذریعہ سمجھی جاتی تھی، اس کے ابتدائی منتظم و بانی فیض رسول بابر کا نام و کردار نمایاں ہے، جو اس دور میں نیویارک میں کمیونٹی میڈیا سے بھی وابستہ تھے اور پاکستانی حکومت کے ساتھ روابط رکھتے تھے
لیکن تقریباً چار دہائیوں بعد یہی پریڈ ایک مختلف تصویر پیش کر رہی ہے۔ ایک ایسی کمیونٹی جس نے امریکہ میں تعلیم، کاروبار، طب، قانون، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، اس کے درمیان نہ پیچھے نہ یہاں کوئ ایک سیاسی سماجی معاشی ادارہ بچا نہ قائم رہ سکا ترقی ،مظبوطی تو خواب میں بھی نہیں دیکھی سوچی جاسکتی، کہ روایتی طاقت ، قبضے اجارہ داری کی خُو نے یہاں بھی خوب تماشا لگایا اور بنایا ، پریڈ میں بھی ہر تین چار سال بعد نئے قبضے انتشار جیسے مقدر ہی ہوگئے یا کردئے گئے ، کبھی طارق کھوکھر تو کبھی ملک اقبال، مظفر چوہدری ، حمیم شاہ سے منیر لودھی تک ، جیسے وقت اور تاریخ ٹھہر گئے ، نئی دو نسلیں جوان ہوگئیں مگر منیر لودھی احمد جان سے خاور بیگ تک ایسا لگتا ہے ، ایک ہی پریڈ نکلی اور چل رہی ہے ، تیس چالیس فلوٹ سے چھ فلوٹ ، وہ بھی چار کنسٹرکشن کمپنیاں ایک تحریک انصاف ، اور جس سے مقابلے کے لئیے یہ سب کھڑا کیا گیا وہاں پورا کارپوریٹ امریکہ ، اسی نوے فلوٹ لاکھ سے زیادہ لوگ ، اتحاد تنظیم یقین سب ایک مٹھی ، اور پھر جیسے ویرانی تباہی پاکستان ڈے پریڈ کا مقدر ہو گئی ، مئیر نے آنا چھوڑ دیا ، اپنے سفیر بھی کنی کترا گئے ، اور تو اور قونصلیٹ نے بھی دوڑ لگا دی ،آپ نے سنا تو ہوگا کبھی کبھی مریض ایسی حالت میں پہنچ جاتا ہے کے اُس کے پیارے ڈاکٹر سے کہتے ہیں “ کیا یہ ممکن نہیں کہ اب وینٹی لیٹر اتار لیا جائے “؟ اب قونصلیٹ بھی سوچ رہا ہے نیویارک سٹی سے کہا جائے اس پریڈ کا پرمٹ ختم کرکے پاکستان کی عزت جو چند جاہل لالچی نمود و نمائش کے بھوکے خود غرض سر مینہٹن لوٹتے ہیں اسے بند کرکے محفوظ بنایا جائے اور کہا جارہا ہے ، بنگلہ دیشی جو پاکستانیوں کے سامنے کل آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر ہر میدان میں آگے سے آگے نکل گئے وہ انتظار میں بیٹھے ہیں کے کب مریض کا دم نکلے جگہ خالی ہو تو انُہیں یہ پرمٹ ملے اور وہ اپنی پریڈ منعقد کرکے دنیا پر ثابت کریں یہ پاکستانی مشرقی پاکستان میں بھی غلط تھے رسوا ہوئے یہ یہاں بھی غلط ہیں اور رسوا ہیں
گزشتہ برس کی پریڈ کے حوالے سے کمیونٹی کے بعض افراد اور امریکی پاکستانی میڈیا میں یہ بات سامنے آئی کہ شرکت انتہائی کم نہیں صرف تین سے چار سو رہ گئی تھی۔ مطلب مردہ بدبو چھوڑ چکا ہے مگر نمود ونمائش کے بھوکے حیوان اب دفنانے پر بھی راضی نہیں شائد لاش بھی نوچ نوچ کر کھانا چاہتے ہیں ، بھاولپور میں دو حیوان بھائ جو قبر سے لاشیں نکال کر چرا کر کھاتے تھے انہیں عدالت نے سزا دی جو وہ اب پوری کرکے پھر پرانے کام پر لوٹ رہے ہیں تو عام لوگ پریشان ہیں اور قے محسوس کرتے کہتے ہیں” آخر کون انسان کسی انسان کا مردہ کیسے کھا سکتا ہے “؟ یہ عام آدمی بھی بیچارہ سے بھی زیادہ بیچارہ ہوتا ہے ، وہ دو بھائ تو سو دو سو لاشیں کھا گئے ہونگے ، کاش یہ عام آدمی پاکستان ڈے پریڈ سے پاکستان چلانے والوں سے کبھی ملے انہیں جانے پرکھے بوجھے، اسائے تو معلوم ہو یہاں تو وہ حیوان مزے سے رہتے ہیں جو ایک پچیس کروڑ عوام کی ریاست کا قومی تشخص ، اسکے قیام کے لیے دی گئیں تین ملین قربانیاں بھی کھا جاتے ہیں نگل جاتے ہیں اور ڈکار بھی نہیں لیتے،
انڈیا ڈے پریڈ کو Federation of Indian Associations (FIA) جیسے بڑے ملکی سطح کے اداروں کی حمایت حاصل ہے، جو مختلف بھارتی نژاد امریکی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتے ہیں۔ اور یہاں اس کے برعکس یہاں ادارہ بنانا تو درکنار اسکا خیال بھی نہیں آیا بس گروہ در گروہ ۔ ساڈا بابا اتُے کا روایتی فلسفہ ہی فیصلے کرتا رہا اور کررہا ہے ہم سب جانتے ہیں یہ مسئلہ صرف ایک پریڈ کا نہیں بلکہ ایک بڑے سماجی رجحان کی علامت ہے،کہ جب کوئی معاشرہ یا ادارہ زوال کا شکار ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف سیاست یا معیشت تک محدود نہیں رہتے بلکہ ثقافتی اور سماجی ادارے بھی کمزور ہونے لگتے ہیں ، کے افراد کے درمیان سے تحمل صبر قناعت کوچ کر جاتا ہے اور ہوس طمع نمود بڑھ جاتی ہے ، کمال یہ کہ اتنا سب کچھ ہوجانے کے باوجود
کوئ سدھار پیدا ہونے کی بجائے مذید اور اختلافات سامنے آگئے ہیں، مطلب کہہ رہے اس پریڈ نام کی لاش کو ہم باعزت دفنانے بھی نہیں دیں گے کے کمیونٹی کو جس قدر رسوا و اسکی تذلیل کرسکتے ہیں کریں گے ، کہا جارہا ہے انتخابات بھی ہوئے قسمیں بھی کھائیں مگر شائد کہیں آسمانوں میں شرمندہ کرنا طے کردیا گیا ہے ، ورنہ امریکہ جیسے ملک میں رہ کر قانون انصاف میرٹ سے ایسا انحراف ، ایک گروپ کا مؤقف ہے کہ باقاعدہ طریقہ کار کے تحت انتخابات ہوئے اور نئی انتظامیہ سامنے آئی، جبکہ دوسرے فریق کا کہنا ہے کہ دستخط کسی انتخاب کے لیے نہیں بلکہ اجلاس کی حاضری کے لیے لیے گئے تھے، اب کون یہاں اور کیسے منصفی کرے کے سب سچے کے ایک بار بار کہہ رہا تھا “آفاق بھای آپ تو جانتے ہیں میں تو جھوٹ بولتا ہی نہیں “
پریڈ کے انعقاد میں چھ ہفتے رہتے ہیں اور یہاں عہدیداروں کے استعفوں اور ممکنہ قانونی کارروائی کی بات ہورہی ،ہر دو تین سال بعد پریس کانفرنس ہوتی ہیں اور وہی تبدیلی کے نعرے وعدے ، شائد ہی تاریخ نے کسی قوم کسی ریاست کا ایسا زوال دیکھا ہو جہاں فرد فرد مکار ہو عیار ہو ، جہاں موجود لمحے کو غنیمت جانا جاتا ہو ، کہ جنہیں اگلے سال مہینے دن تو کیا لمحے کا بھی اعتبار ہے نہ یقین کے جو ابھی ملے بس سمیٹ لو ، تنہائ میں خاموشی سے خود سے خود میں یہ سوال ضرور اٹھایا جاتا ہے کہ امریکہ میں پروان چڑھنے والی نئی پاکستانی نسل، جو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مختلف شعبوں میں کامیاب ہے، اسے فیصلہ سازی میں رہنمائ کے لیے سامنے لانے میں کیوں ناکام ہوئے ، مگر یہ سوال کبھی اجتماعی طور پر منظم ہوکر سوچا گیا نہ پوچھا گیا کے پاکستانی امریکی کمیونٹی میں بڑی تعداد میں ڈاکٹرز، وکلا، پروفیسرز، کاروباری افراد اور ٹیکنالوجی ماہرین موجود ہیں، جنکی ایک اکثریت نے سوشل سائنس پڑھی ہی نہیں پڑھا بھی رہے ہیں انکی موجودگی میں یہ احمد جان میسنا اور یہ منیر لودھی جسے دیکھ کر سب رنگ ڈائجسٹ کی کہانی بازیگر کا کردار بٹھل یاد آ کے رہ جاتا ہے تو وہ خاور بیگ جو تحریک انصاف میں بھی ہے اور اسٹیبلشمنٹ کی پارٹی اے پی پیک میں بھی جس کے بارے میں کل ہی کسی نے بتایا ماشااللہ سے “ نظر کرم پڑ چکی ہے اور کھنگالا جانا شروع ہوچکا ہے، سچی بات کہوں فیض رسول بابر میرے بزرگ تھے بہترین دوست تھے مگر حد ادب میں رہ کر ان سے بھی کہا کرتا تھا ، اس مسلم لیگ نے برصغیر کے مسلمانوں کو برباد کردیا، پاکستان سے پاکستان ڈے تک سب اسی کے کارنامے ہیں ، پریڈ کی پوری تاریخ مسلم لیگ کی فسطائیت سے بھری پڑی ہے اور اس میں ن قائداعظم، جناح ، کونسل بس نام کے آگے ایک لقب ہی تو اضافی ہوتا ہے مگر ذہنیت ان سب کی ایک ، کیپٹن خالد شاہین ہوں طارق کھوکھر ہوں، مظفر چوہدری ، ملک اقبال سے خاور بیگ یا میسنے احمد جان تک جس کے بال بھی تو نہیں پکڑے جاسکتے ، یا کوئ بھی دوسرا نگینہ پریڈ اٹھا کر دیکھ لیں ڈانڈے مسلم لیگ سے جڑے ملیں گے ،
پاکستان ڈے پریڈ کی موجودہ صورتحال بہرحال یہ ضرور سمجھاتی ہے کہ ایک کامیاب اور باصلاحیت کمیونٹی ضروری نہیں اپنے اجتماعی اداروں کو بھی اتنا ہی مضبوط بنا سکے، جتنا اس نے اپنے افراد کو بنایا ہے
مین ہٹن کی وہ سڑکیں جہاں کبھی ہزاروں پاکستانی امریکی اپنی شناخت کا جشن مناتے تھے، آج ایک مختلف کہانی بیان کر رہی ہیں۔ یہ صرف ایک پریڈ کے کمزور ہونے کی داستان نہیں بلکہ پورے ایک معاشرے کے انتشار افراتفری مایوسی کی داستان الم ہے ، آئیے اس بار ہم سب پریڈ کے انتقال یا شہادت پر جسے ہم نے اپنی انا کا زہر دیکر یہ جام نوش کرنے پر مجبور کیا ہے میڈیسن ایونیو اور بیالیس یا سنتیالیس اسٹریٹ سے ستائیس اسٹریٹ تک کھلے بالوں برستی آنکھوں اور ہاتھوں میں شمعیں غم جلائے دہکائے مارچ کریں کے اپنے مردوں کی باعزت تدفین کرکے کم از کم ہم مہذب دنیا کو یہ تو یقین دلا سکتے ہیں ہمیں مردوں کی تکریم ہی نہیں انکے ساتھ برتے جانے والے سلوک کی تمام رسموں سے بھی آگہی ہے ، ہاں ایسے میں کچھ بچوں کے ہاتھوں میں پوری پریڈ کمیٹی کی ٹیم کی تصاویر بھی ہوں جنہیں جوتوں کے ہار پہنا کر جوتے مارتے ہوئے مارچ کیا جائے تو ممکن ہے تاریخ صرف اتنا لکھے درمیان میں کچھ حیوان تھے ورنہ تو باقی سب انسان تھے

قومی خبریں سے مزید