سندھ کا بلدیاتی نظام ختم ہورہا ہے ؟ ، احتسابی کارروائیوں نے کیوں جنم دیا خدشات کو؟

سندھ کا بلدیاتی نظام ختم ہورہا ہے ؟ ، احتسابی کارروائیوں نے کیوں جنم دیا خدشات کو؟

سندھ میں بلدیاتی نظام ختم کرنے، میئرز، ٹاؤن چیئرمینوں اور یونین کونسل کے نمائندوں سے اختیارات واپس لینے اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی ایک خبر سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہے، تاہم اس دعوے کی تاحال کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

اس غیر مصدقہ پیغام میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جولائی کے آخری ہفتے میں سندھ کا موجودہ بلدیاتی ڈھانچہ ختم کر دیا جائے گا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹس کی بنیاد پر کارروائیاں شروع ہوں گی۔ لیکن دستیاب معلومات کے مطابق ایسا کوئی حکومتی حکم، نوٹیفکیشن یا اعلان موجود نہیں جس سے پورے بلدیاتی نظام کے خاتمے کی تصدیق ہو سکے۔

البتہ اس افواہ کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ سندھ کے بعض بلدیاتی اداروں میں جاری احتسابی اقدامات اور انتظامی کارروائیاں ہیں۔ حالیہ دنوں میں سکھر میونسپل کارپوریشن کے بعض افسران کے خلاف شکایات پر کارروائی کی گئی، جہاں سندھ لوکل گورنمنٹ بورڈ نے 5 افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی اور بعض افسران کو معطل کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق بلدیاتی اداروں کے کام، تجاوزات کے خلاف کارروائیوں، شہری سہولتوں اور انتظامی معاملات سے متعلق شکایات کے بعد مختلف سطحوں پر نگرانی اور تحقیقات کا عمل جاری ہے۔ تاہم کسی ایک ادارے کے خلاف کارروائی کو پورے سندھ کے بلدیاتی نظام کے خاتمے سے جوڑنا درست نہیں۔

سیاسی اور انتظامی حلقوں میں یہ بات بھی زیر بحث رہی ہے کہ سندھ کے بلدیاتی ادارے طویل عرصے سے اختیارات، وسائل اور صوبائی حکومت کے ساتھ تعلقات کے مسائل کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ یہی پس منظر بعض اوقات ایسی افواہوں کو جنم دیتا ہے جن میں اصلاحات یا احتسابی اقدامات کو مکمل نظام ختم کرنے کے دعووں کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسی افواہیں کئی نقصانات پیدا کرتی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ عوامی اداروں پر اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ منتخب نمائندوں، سرکاری افسران اور شہریوں میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ تیسری بات یہ کہ اصل احتسابی عمل بھی سیاسی تنازع کا شکار ہو سکتا ہے، کیونکہ حقیقی تحقیقات اور افواہوں میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

بدعنوانی کے خلاف کارروائی کسی بھی جمہوری نظام کی ضرورت ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ احتساب شفاف تحقیقات، ثبوت اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ غیر مصدقہ اطلاعات اور سوشل میڈیا کی مہمات کے ذریعے۔

سندھ میں اگر واقعی بلدیاتی اداروں کے اندر بدانتظامی، مالی بے ضابطگیوں یا اختیارات کے غلط استعمال کے معاملات موجود ہیں تو ان کا حل اداروں کو ختم کرنا نہیں بلکہ نظام کو مضبوط، شفاف اور جواب دہ بنانا ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ سندھ کا بلدیاتی نظام ختم کرنے کی خبر فی الحال ایک غیر مصدقہ افواہ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بعض بلدیاتی اداروں میں نگرانی، معطلیوں اور تحقیقات کا عمل جاری ہے۔

قومی خبریں سے مزید