رہنما کی تدفین کے بعد ایران کا سخت مؤقف، ٹرمپ کو آزمائش میں ڈالنے کا خطرہ، جنگ دوبارہ بھڑکنے کا اندیشہ
ایران کے سابق رہنما کی تدفین کے بعد تہران نے امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی میں مزید سخت رویہ اختیار کر لیا ہے، جس سے خطے میں دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ایک تجزیاتی مضمون کے مطابق ایران کی نئی قیادت اور سکیورٹی ادارے جنگ کے بعد کمزور ہونے کے بجائے زیادہ پراعتماد دکھائی دے رہے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو آزمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کو مزید اطلاع تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے اور امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس اہم بحری راستے میں مداخلت کر رہا ہے۔ تہران کے اس اقدام نے عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
یہ صورتحال ایران کے سابق رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد سامنے آئی، جس کے بعد ان کے جانشین اور ایرانی قیادت نے انتقام اور مزاحمت کا سخت پیغام دیا۔ ایرانی حکام نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
مضمون کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت جوابی کارروائی کی دھمکیاں دی ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کے امکانات بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ تاہم زمینی حالات میں فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہنے سے کسی نئے تصادم کا خطرہ برقرار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کا معاملہ اس بحران کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے، کیونکہ یہ دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تیل منڈی اور بین الاقوامی تجارت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔





