اختر مینگل کا زیارت پولیس اہلکاروں کے قتل کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ، دھرنا تیسرے روز بھی جاری

اختر مینگل کا زیارت پولیس اہلکاروں کے قتل کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ، دھرنا تیسرے روز بھی جاری

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اختر مینگل نے زیارت میں پولیس اہلکاروں کے قتل کے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت صوبے میں بدامنی کا مستقل حل تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے۔

روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اختر مینگل نے ہفتے کے روز زیارت میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کی جانب سے جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر صوبے میں مؤثر نظامِ انصاف موجود ہے تو زیارت حملے اور اس جیسے دیگر واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کیوں نہیں کی جا رہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کا اپنے ہی اداروں اور فیصلوں پر اعتماد کا فقدان ملک کے بڑے المیوں میں سے ایک ہے۔

بی این پی کے سربراہ نے کہا کہ بلوچستان میں ماضی میں کئی تجربات کیے گئے، جن میں لیویز فورس کا خاتمہ اور بعد ازاں اسے پولیس میں ضم کرنا بھی شامل ہے، لیکن یہ تمام اقدامات مسائل کا مستقل حل فراہم کرنے میں ناکام رہے۔

انہوں نے حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے کمیٹیاں قائم کی جاتی ہیں اور نمائندے بھیجے جاتے ہیں، لیکن بدامنی کے بنیادی اسباب ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے۔

اختر مینگل نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم رہیں اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں۔

زیارت میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف جاری دھرنا تیسرے روز میں داخل ہو گیا ہے، جہاں متاثرہ خاندان شفاف تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید