امریکہ اسرائیل ، ایران جنگ پھر عروج پر، امریکہ کے تازہ حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز بند رکھنے کا اعلان کر دیا
خلیج اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران امریکہ، ایران اور علاقائی اتحادیوں کے درمیان محاذ آرائی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے ایران کے خلاف تازہ کارروائیوں میں تقریباً 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو “مزید اطلاع تک” بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں ایرانی میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری صلاحیتوں، گولہ بارود کے ذخائر، مواصلاتی مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چند دنوں میں ہونے والی تین بڑی کارروائیوں کے دوران 300 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں اور شہری بحری آمدورفت کو متاثر کرنے کی صلاحیت کم کی جا سکے۔
امریکہ نے یہ کارروائیاں ایک ایسے واقعے کے بعد شروع کیں جس میں قبرص کے پرچم والے ایک تجارتی جہاز پر حملے کے بعد عملے کو جہاز چھوڑنا پڑا تھا۔ برطانیہ کے بحری تجارتی نگرانی ادارے کے مطابق عمان کے قریب ایک کنٹینر جہاز میں آگ لگنے کے بعد عملہ محفوظ مقام پر منتقل ہو گیا۔
دوسری جانب ایران کے پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو غیر معینہ مدت تک بند رکھا جائے گا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمانی حکام کے ساتھ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کے طریقہ کار پر بات چیت کی ہے، تاہم ایران کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے پر اپنا کنٹرول ختم نہیں کرے گا۔
خلیجی ممالک میں بھی خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔
متحدہ عرب امارات نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام میزائل خطرے سے نمٹ رہے ہیں، جبکہ بحرین میں فضائی حملے کے انتباہی سائرن بجائے گئے۔ قطر میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
لبنان میں بھی اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں۔ لبنانی ذرائع کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار 322 تک پہنچ گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے لبنان کے اندر حزب اللہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا۔
دریں اثنا ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر سیاسی اور تکنیکی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ قطر اور اردن نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت جاری ہے اور مئی کے آغاز سے اب تک امریکی مدد سے 800 سے زائد تجارتی جہاز اور تقریباً 40 کروڑ بیرل خام تیل محفوظ طریقے سے منتقل ہو چکا ہے۔
موجودہ صورتحال نے عالمی توانائی منڈیوں، خلیجی سلامتی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں شمار ہوتی ہے





