پوٹن کے قریبی امیر طبقے سے پہلی بلند آواز تنقید، مگر بہت دیر ہو چکی ہے

پوٹن کے قریبی امیر طبقے سے پہلی بلند آواز تنقید، مگر بہت دیر ہو چکی ہے

روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کے قریب سمجھے جانے والے ایک ارب پتی کاروباری شخصیت نے یوکرین جنگ اور روسی نظامِ حکومت کے بارے میں آواز اٹھائی ہے، تاہم مبصرین کے مطابق یہ تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بہت کچھ بدل چکا ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے ایک تجزیاتی مضمون کے مطابق روس کے امیر ترین کاروباری طبقے، جسے طویل عرصے سے کریملن کے سیاسی و معاشی نظام کا حصہ سمجھا جاتا رہا ہے، نے برسوں تک خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اس طبقے کو روس میں کاروباری مواقع، اثر و رسوخ اور دولت کے حصول کے لیے حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے پڑے۔

مضمون میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جب تک روسی اشرافیہ کو موجودہ نظام سے فائدہ ملتا رہا، اس نے صدر پوٹن کی پالیسیوں پر کھل کر اعتراض نہیں کیا۔ لیکن یوکرین جنگ کے بعد مغربی پابندیوں، عالمی تنہائی اور معاشی دباؤ نے اس طبقے کو مشکلات سے دوچار کر دیا، جس کے نتیجے میں بعض آوازیں اب سامنے آ رہی ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کے تجزیے میں اس صورتحال کو “بہت کم اور بہت دیر” کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ مضمون نگار کے مطابق اگر روس کے بااثر کاروباری افراد پہلے اختلاف کرتے تو شاید ان کا اثر زیادہ ہو سکتا تھا، لیکن موجودہ حالات میں ان کی تنقید محدود اثر رکھتی ہے۔

روس کے اولیگارک طبقے نے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد نجکاری کے دور میں بڑی دولت حاصل کی اور وقت کے ساتھ کریملن کے طاقتور حلقوں کے قریب ہوتا گیا۔ ان میں سے کئی افراد نے سیاسی استحکام اور کاروباری تحفظ کے بدلے حکومت کے ساتھ تعاون کا راستہ اختیار کیا۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق یوکرین جنگ نے روس کے اس طاقتور معاشی طبقے کے لیے ایک نئی حقیقت پیدا کر دی ہے، جہاں دولت تو موجود ہے لیکن عالمی رسائی، سرمایہ کاری کے مواقع اور سیاسی اثر و رسوخ پہلے جیسے نہیں رہے۔

یہ خبر وال اسٹریٹ جرنل کے ایک تجزیاتی مضمون کے مندرجات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے، جس میں روسی اشرافیہ اور صدر پوٹن کے نظام کے درمیان تعلقات کا جائزہ لیا گیا ہے

قومی خبریں سے مزید