کبھی وہ تینتیس ڈالر فی گھنٹہ کمانے والا کوسٹکو کیشئیر تھا، اب وہ ملینر ہے
ایریزونا کے شہر ٹکسن میں واقع کوسٹکو ہول سیل کارپوریشن کے ایک کیشیئر ٹونی بارزر نے تقریباً چار دہائیوں تک ایک ہی کمپنی میں کام کرتے ہوئے اپنی ریٹائرمنٹ کی بچت کو 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ تک پہنچا دیا۔
بارزر نے 1986 میں کوسٹکو کی پیش رو کمپنی پرائس کلب میں کام شروع کیا تھا۔ اس وقت وہ پارکنگ میں گاڑیاں جمع کرنے کا کام کرتے تھے اور ان کی اجرت صرف 5.85 ڈالر فی گھنٹہ تھی۔ بعد میں وہ مختلف عہدوں سے گزرتے ہوئے اسٹور کے اندر آئے، سامان لگانے، گاہکوں کو خوش آمدید کہنے اور آخرکار کیشیئر کی ذمہ داری تک پہنچے۔
آج 60 سالہ بارزر تقریباً 32.90 ڈالر فی گھنٹہ کماتے ہیں اور ان کے مطابق ان کے ریٹائرمنٹ اکاؤنٹ (401(k)) میں موجود سرمایہ 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہو چکا ہے۔
ان کی کامیابی کا راز صرف تنخواہ نہیں بلکہ طویل عرصے تک مستقل ملازمت، کمپنی کے فراہم کردہ فوائد اور باقاعدہ بچت تھی۔ انہوں نے اپنی ملازمت کے ابتدائی برسوں میں ہی ریٹائرمنٹ اکاؤنٹ میں رقم ڈالنا شروع کر دی تھی، جو وقت کے ساتھ بڑھتی گئی۔
بارزر کو کئی بار سپروائزر بننے کا موقع دیا گیا، مگر انہوں نے کیشیئر رہنا پسند کیا کیونکہ انہیں براہ راست گاہکوں سے ملنا اور نئے ملازمین کی رہنمائی کرنا پسند ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ریٹائر ہو سکتے ہیں، لیکن وہ کام جاری رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ کوسٹکو نے ان کے خاندان کا بہت خیال رکھا۔
اس کہانی کو وال اسٹریٹ جرنل نے صرف ایک شخص کی کامیابی نہیں بلکہ کوسٹکو کے کاروباری ماڈل کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔ کمپنی نسبتاً بہتر اجرت، مراعات اور ملازمین کو برقرار رکھنے کی پالیسی کے لیے مشہور ہے، جس سے تجربہ کار ملازمین طویل عرصے تک کمپنی کے ساتھ رہتے ہیں۔





