امریکی صدر کا شکوہ، یورپی ممالک کا دفاعی اخراجات بڑھانے کا پیغام؛ ترکی پر پابندیاں نرم، روس اور یوکرین امن معاہدے کے خواہاں قرار
ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادیوں کی جانب سے تحفظات اور مایوسی کے اظہار کے باوجود نیٹو کے رکن ممالک نے ترکی میں دفاعی معاہدوں کی نمائش کرتے ہوئے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ امریکہ کے مطالبے کے مطابق یورپ کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے مزید سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
اتحاد کے رہنماؤں نے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے اجلاس کے دوران اربوں ڈالر مالیت کے نئے ہتھیاروں کے معاہدوں کا اعلان کیا۔ حکام کے مطابق دفاعی شعبے سے متعلق ان معاہدوں کی مجموعی مالیت تقریباً پچاس ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب مغربی دفاعی اتحاد کو ایک بار پھر اندرونی اختلافات کا سامنا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے اس اتحاد میں گزشتہ ایک سال کے دوران کئی معاملات پر اختلافات سامنے آئے، جبکہ ایران جنگ نے بھی اتحادی ممالک کے درمیان پالیسی اختلافات کو نمایاں کیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ بعض اتحادی ممالک کے رویے سے مایوس ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ یورپی ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے زیادہ مالی ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔ امریکی صدر نے ایک بار پھر گرین لینڈ پر اپنے کنٹرول کے مطالبے کو بھی دہرایا، جس نے یورپی اتحادیوں میں تشویش پیدا کی ہے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی پر عائد بعض پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔
نیٹو حکام کو خدشہ ہے کہ اگر صدر ٹرمپ اتحادیوں کے دفاعی اخراجات سے مطمئن نہ ہوئے تو وہ دوبارہ اتحاد سے علیحدگی کی دھمکی دے سکتے ہیں یا اجتماعی دفاع کے معاہدے پر امریکی عزم کو کمزور کر سکتے ہیں۔
اجلاس میں شریک ممالک نے اس تاثر کو ختم کرنے کی کوشش کی کہ امریکہ اور یورپ کے درمیان دفاعی معاملات پر فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے دفاعی منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یورپی ممالک اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اجلاس دراصل دو متضاد پیغامات لے کر سامنے آیا: ایک طرف یورپ امریکہ کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ وہ اپنی دفاعی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف واشنگٹن میں یہ سوال موجود ہے کہ آیا اتحادی ممالک واقعی اپنی سلامتی کا بوجھ خود اٹھانے کے لیے تیار ہیں یا نہیں





