مصنوعی ذہانت کے فن کا امتحان، جب نقادوں نے مشین کو ناکام کہا تو وہ صدیوں پرانے شاہکار کے سامنے کھڑے تھے

مصنوعی ذہانت کے فن کا امتحان، جب نقادوں نے مشین کو ناکام کہا تو وہ صدیوں پرانے شاہکار کے سامنے کھڑے تھے

فن کی دنیا میں ایک دلچسپ تجربے نے یہ سوال پھر زندہ کر دیا ہے کہ کیا انسان اور مصنوعی ذہانت کے درمیان تخلیقی فرق اب بھی قائم ہے، یا مشینیں ہمارے جمالیاتی فیصلوں کو بھی چیلنج کرنے لگی ہیں۔

مئی میں ایک گمنام فنکار، جو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر “ایس ایچ ایل زیرو ایم ایس” کے نام سے سرگرم ہے، نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ ایک تصویر پیش کی اور دعویٰ کیا کہ یہ مشہور فرانسیسی مصور کلود مونے کے انداز سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔ اس نے لوگوں سے کہا کہ وہ بتائیں کہ یہ تصویر مونے کے فن کی نقل کرنے میں کہاں ناکام رہی ہے۔

اس تجربے پر سیکڑوں افراد نے اپنی آرا دیں۔ کسی نے رنگوں کو غیر فطری قرار دیا، کسی نے منظر کی گہرائی پر اعتراض کیا، جبکہ کئی لوگوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت روشنی اور سائے کے حقیقی احساس کو نہیں سمجھ سکی۔

مگر پھر اس فنکار نے ایک ایسا انکشاف کیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ اس نے بتایا کہ یہ تصویر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نہیں تھی بلکہ دراصل خود کلود مونے کا اصل فن پارہ تھا۔

یہ تصویر مونے کی مشہور آبی پھولوں کی تقریباً ڈھائی سو مختلف پینٹنگز میں سے ایک تھی، جو انہوں نے اپنی زندگی میں تخلیق کیں۔ فنکار نے صرف انٹرنیٹ پر موجود ایک اعلیٰ معیار کی نقل حاصل کی، اس میں سے مونے کے دستخط کو ہٹا دیا اور اسے ایک نئے تجربے کے طور پر پیش کر دیا۔

بعد ازاں اس نے اس فن پارے کو “کم تر تصویر” کے عنوان سے ایک منفرد ڈیجیٹل ملکیتی دستاویز کے طور پر فروخت کیا، جہاں متعدد بولیوں کے بعد یہ چالیس ہزار ڈالر سے زیادہ میں فروخت ہوا
یہ واقعہ صرف ایک دلچسپ مذاق یا فنکارانہ چال نہیں بلکہ جدید دور کے ایک بڑے سوال کی علامت ہے: کیا فن کی قدر صرف تصویر میں موجود خوبصورتی ہے یا اس کے پیچھے موجود تاریخ، تخلیق کار اور انسانی تجربہ بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں؟

جن لوگوں نے اس تصویر کو مصنوعی ذہانت کا نتیجہ سمجھ کر تنقید کی، انہوں نے دراصل اس میں وہ خامیاں تلاش کیں جو وہ مشین سے توقع کرتے تھے۔ لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو سوال تصویر کی خامیوں سے بدل کر انسانی فیصلے کی حدود تک پہنچ گیا۔

کلود مونے کا فن صرف رنگوں اور شکلوں کا مجموعہ نہیں تھا بلکہ وقت، روشنی، فطرت اور انسانی مشاہدے کا ایک احساس تھا۔ مونے ان مصوروں میں شامل تھے جنہوں نے روشنی کے بدلتے ہوئے لمحوں کو کینوس پر محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے آبی پھولوں کے مناظر آج بھی دنیا بھر میں فن کے شاہکار سمجھے جاتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت نے اگرچہ فن تخلیق کرنے کی صلاحیت میں حیرت انگیز ترقی کی ہے، لیکن یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ فن کی اصل طاقت صرف ظاہری شکل میں نہیں بلکہ اس کہانی میں بھی ہوتی ہے جو کسی تخلیق کے پیچھے چھپی ہوتی ہے۔

آنے والے برسوں میں جب مصنوعی ذہانت سے بنے فن پارے عام ہوں گے، تو شاید سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہوگا کہ تصویر کس نے بنائی، بلکہ یہ ہوگا کہ ہم کسی فن پارے کو خوبصورت، قیمتی اور یادگار کیوں سمجھتے ہیں

قومی خبریں سے مزید