انقرہ سے اٹھنے والی نئی ہوا، ٹرمپ نے اردوان کو قابلِ اعتماد اتحادی قرار دے کر پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا
انقرہ میں شمالی اوقیانوسی دفاعی اتحاد کے سربراہی اجلاس کے افتتاحی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسا اعلان کیا جسے مغربی سفارت کاری میں ایک نئے موڑ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی غیر معمولی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ترکی امریکہ کا ایسا دوست ہے جس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے، اور اسی اعتماد کے اظہار کے طور پر واشنگٹن ترکی پر عائد بعض معاشی پابندیاں ختم کرے گا، جبکہ اسے جدید ترین لڑاکا طیاروں کے مشترکہ منصوبے میں دوبارہ شامل کرنے پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں گزشتہ برسوں میں دفاعی اتحاد کی کارکردگی پر شدید مایوسی رہی، یہاں تک کہ اگر یہ اجلاس ترکی کے بجائے کسی اور ملک میں منعقد ہوتا تو ممکن تھا کہ وہ اس میں شرکت ہی نہ کرتے۔ ان کے بقول ترکی میں اجلاس کا انعقاد اور صدر اردوان کی مضبوط قیادت ان کی شرکت کا بنیادی سبب بنی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس موقع پر اسے دفاعی اتحاد کی تاریخ کا شاید سب سے اہم اجلاس قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس میں صرف دفاعی اخراجات ہی نہیں بلکہ آئندہ کئی برسوں کے لیے یورپ، مشرق وسطیٰ اور بحیرۂ اسود کی سلامتی کے خدوخال بھی متعین ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ ترکی پر وہ معاشی پابندیاں ختم کرے گا جو مخالف ممالک کے ساتھ لین دین کی حوصلہ شکنی کے لیے بنائے گئے امریکی قانون کے تحت عائد کی گئی تھیں۔ یہ پابندیاں اس وقت نافذ ہوئی تھیں جب ترکی نے روس سے جدید فضائی دفاعی نظام خریدا تھا، جسے واشنگٹن نے اپنے دفاعی مفادات اور جدید لڑاکا طیاروں کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔
اسی فیصلے کے نتیجے میں ۲۰۱۹ء میں ترکی کو امریکہ کے جدید لڑاکا طیاروں کے مشترکہ منصوبے سے بھی خارج کر دیا گیا تھا، حالانکہ ترکی نہ صرف اس منصوبے کا شریک سرمایہ کار تھا بلکہ اس کے کئی پرزے بھی ترک صنعتیں تیار کرتی تھیں۔ اس فیصلے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں سرد مہری پیدا ہوئی اور کئی برس تک دفاعی تعاون محدود رہا۔
اب صدر ٹرمپ کی جانب سے پابندیاں ختم کرنے اور ترکی کو دوبارہ اس منصوبے میں شامل کرنے پر غور کا اعلان اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن اپنی علاقائی حکمت عملی پر ازسرنو نظرثانی کر رہا ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ، مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورت حال، بحیرۂ اسود میں بڑھتی کشیدگی، شام اور قفقاز کے معاملات، اور یورپی دفاعی ڈھانچے میں پیدا ہونے والی نئی ضرورتوں نے ترکی کی جغرافیائی اور عسکری اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دی ہے۔
ترکی مشرق اور مغرب کے درمیان واقع وہ واحد طاقت ہے جو بحیرۂ اسود، بحیرۂ روم، مشرق وسطیٰ، قفقاز اور یورپ کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ اسی لیے واشنگٹن اور یورپی دارالحکومت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ خطے میں کسی بھی بڑی حکمت عملی کو ترکی کے فعال کردار کے بغیر مکمل نہیں کیا جا سکتا۔
تجزیہ
صدر ٹرمپ کے بیانات محض سفارتی خوش کلامی نہیں بلکہ امریکی خارجہ پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کا واضح اشارہ ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں امریکہ اور ترکی کے تعلقات روسی دفاعی نظام کی خریداری، شام کی صورت حال، کرد جنگجوؤں کی حمایت اور مشرقی بحیرۂ روم کے تنازعات کے باعث مسلسل تناؤ کا شکار رہے۔ اب اگر پابندیاں واقعی ختم ہو جاتی ہیں اور دفاعی تعاون بحال ہوتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے تعلقات کی سب سے بڑی بحالی تصور کی جائے گی۔
اس اعلان کا دوسرا اہم پہلو دفاعی اتحاد کے اندر طاقت کے توازن سے متعلق ہے۔ ٹرمپ طویل عرصے سے یورپی اتحادیوں پر دفاعی اخراجات میں کمی اور امریکہ پر حد سے زیادہ انحصار کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ان کی حالیہ گفتگو سے بھی یہی تاثر ابھرتا ہے کہ وہ روایتی مغربی اتحادیوں کے مقابلے میں ایسے شراکت داروں کو زیادہ اہمیت دینا چاہتے ہیں جو ان کے نزدیک عملی کردار ادا کرتے ہوں۔
ترکی کے لیے بھی یہ پیش رفت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر اسے جدید لڑاکا طیاروں کے منصوبے میں دوبارہ شامل کر لیا جاتا ہے تو نہ صرف اس کی فضائی قوت مضبوط ہوگی بلکہ ترک دفاعی صنعت کو بھی اربوں ڈالر کے صنعتی اور تکنیکی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
تاہم اس فیصلے کی راہ مکمل طور پر ہموار نہیں۔ امریکی کانگریس میں ایسے ارکان کی بڑی تعداد موجود ہے جو روس کے ساتھ ترکی کے دفاعی تعاون پر اب بھی تحفظات رکھتے ہیں۔ اسی طرح یورپ کے بعض ممالک بھی ترکی کے بارے میں مختلف سیاسی اور تزویراتی خدشات رکھتے ہیں، اس لیے ٹرمپ کے اعلانات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے واشنگٹن کو اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر سفارتی کوششیں کرنا ہوں گی۔
اگر یہ عمل مکمل ہو جاتا ہے تو انقرہ میں شروع ہونے والا یہ اجلاس صرف ایک معمول کا دفاعی اجتماع نہیں رہے گا بلکہ اسے اس لمحے کے طور پر یاد رکھا جا سکتا ہے جب امریکہ نے اپنی علاقائی ترجیحات کو نئے سرے سے ترتیب دیتے ہوئے ترکی کو دوبارہ اپنے اہم ترین تزویراتی شراکت داروں کی صف میں لانے کا فیصلہ کیا






