بحرالکاہل کا غیر معمولی درجۂ حرارت خطرے کی گھنٹی، ال نینو کے خدشات پر بھارت میں موسمیاتی الرٹ

بحرالکاہل کا غیر معمولی درجۂ حرارت خطرے کی گھنٹی، ال نینو کے خدشات پر بھارت میں موسمیاتی الرٹ

بحرالکاہل کے پانیوں میں غیر معمولی حد تک بڑھتا ہوا درجۂ حرارت عالمی موسمی ماہرین کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں ال نینو کے دوبارہ مضبوط ہونے کے خدشات نے بھارت میں آئندہ مون سون بارشوں کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔

امریکی ادارہ برائے سمندری اور فضائی تحقیق کے اعداد و شمار کے مطابق بحرالکاہل کے نینو تین اعشاریہ چار خطے میں پانی کا درجۂ حرارت گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی خطہ ال نینو کے رجحان کی نگرانی کے لیے سب سے اہم سمجھا جاتا ہے۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جس میں بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔ اس تبدیلی کا اثر دنیا کے مختلف علاقوں کے موسم پر پڑ سکتا ہے، خصوصاً جنوبی ایشیا میں بارشوں کے نظام پر اس کے اثرات دیکھے گئے ہیں۔

بھارت کے لیے یہ صورتحال خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ملک کی زراعت کا بڑا حصہ مون سون بارشوں پر انحصار کرتا ہے۔ اگر ال نینو مضبوط ہوتا ہے تو بعض اوقات بارشوں میں کمی، خشک سالی کے خطرات اور زرعی پیداوار پر دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف درجۂ حرارت میں اضافہ ہی حتمی پیش گوئی کے لیے کافی نہیں، بلکہ سمندری ہواؤں، فضائی دباؤ اور دیگر موسمی عوامل کا مسلسل جائزہ بھی ضروری ہے۔

بھارتی موسمی ادارے اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ حکومت اور زرعی ماہرین کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ اگر مون سون کے نظام میں تبدیلی آتی ہے تو کسانوں اور پانی کے وسائل کے انتظام پر اس کے اثرات کو کیسے کم کیا جائے۔

دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے پس منظر میں بحرالکاہل کے درجۂ حرارت میں یہ اضافہ ایک بار پھر اس سوال کو نمایاں کر رہا ہے کہ بدلتا ہوا موسم عالمی معیشت، خوراک اور انسانی زندگی پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید