روس کا دباؤ، امریکی بے چینی اور دفاعی اخراجات کا تنازع، ٹرمپ اہم اجلاس کے لیے ترکی روانہ

روس کا دباؤ، امریکی بے چینی اور دفاعی اخراجات کا تنازع، ٹرمپ اہم اجلاس کے لیے ترکی روانہ

استنبول: نیٹو اتحاد کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکی پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ شمالی اوقیانوس معاہدہ تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔

یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب روس کی جانب سے یوکرین میں جاری فوجی کارروائیوں نے یورپی سلامتی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ امریکہ مسلسل اپنے اتحادی ممالک پر زور دے رہا ہے کہ وہ دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کریں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی حکومت کا مؤقف ہے کہ نیٹو کے دیگر رکن ممالک کو اپنی دفاعی ذمہ داریوں میں زیادہ حصہ ڈالنا چاہیے اور اپنی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا چاہیے۔

اجلاس میں روس اور یوکرین جنگ کے علاوہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال بھی اہم موضوعات میں شامل ہوگی۔ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی اور خطے میں بڑھتی کشیدگی نے بھی عالمی سلامتی کے منظرنامے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

اس کے علاوہ گرین لینڈ سے متعلق امریکہ کی سابقہ کوششیں بھی اتحادیوں کے درمیان بحث کا موضوع رہیں گی۔ گرین لینڈ ڈنمارک کا حصہ ہے، جو نیٹو کا رکن ملک ہے، اور اس معاملے نے اتحاد کے اندر سیاسی حساسیت پیدا کی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اجلاس نیٹو کے مستقبل، دفاعی اخراجات کی تقسیم اور روس کے مقابلے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے دورے کو اس بات کے امتحان کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے کہ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی موجودہ اختلافات کے باوجود اتحاد کو کس طرح مضبوط رکھتے ہیں

قومی خبریں سے مزید