انسان نما روبوٹ کی دوڑ تیز، مگر گھر گھر روبوٹ پہنچانے کا وعدہ ابھی دور
سان فرانسسکو: انسان نما روبوٹ بنانے والی کمپنیوں کے درمیان عالمی مقابلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن اس شعبے کی ایک نمایاں کمپنی ایجیلیٹی روبوٹکس کے سربراہ نے واضح کیا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں ہر گھر میں روبوٹ پہنچانے کا وعدہ نہیں کر رہے۔
رپورٹ کے مطابق انسان نما روبوٹ کی صنعت میں سرمایہ کاری کا سیلاب آ چکا ہے۔ کئی نئی کمپنیاں اربوں ڈالر کی مالیت حاصل کر رہی ہیں اور صنعتی شعبوں، گوداموں اور دیگر کاموں کے لیے ایسے روبوٹ تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں جو انسانوں کی طرح حرکت اور کام کر سکیں۔
چین کی کمپنی اے آئی ٹو روبوٹکس نے حال ہی میں تقریباً تہتر کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جس سے اس کی مالیت تقریباً تین ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اسی طرح آسٹن کی کمپنی ایپٹرونک نے نوے کروڑ پینتیس لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جبکہ اس کی مجموعی مالیت پانچ ارب پچاس کروڑ ڈالر سے زیادہ بتائی گئی۔
امریکہ کی کمپنی فگر اے آئی نے بھی انسان نما عمومی روبوٹ تیار کرنے کے منصوبے کے تحت ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی، جس کے بعد اس کی مالیت تقریباً انتالیس ارب ڈالر تک پہنچنے کی اطلاع ہے۔
ایجیلیٹی روبوٹکس کا مؤقف ہے کہ اس شعبے میں کامیابی صرف بڑے دعووں یا بلند مالیت سے نہیں بلکہ عملی کارکردگی، قابل اعتماد ٹیکنالوجی اور حقیقی دنیا میں استعمال سے حاصل ہوگی۔ کمپنی عوامی سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے مستقبل کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق انسان نما روبوٹ مستقبل میں صنعت، صحت، نقل و حمل اور گھریلو کاموں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم محفوظ، سستے اور قابل اعتماد روبوٹ عام گھروں تک پہنچنے میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں





