چین کی نایاب معدنیات کی بندش سے جاپانی معیشت پر خطرہ، صنعتوں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
ٹوکیو: چین کی جانب سے اہم نایاب معدنیات کی برآمدات میں رکاوٹ نے جاپان کی معیشت کے لیے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ جاپانی کمپنیوں کی حالیہ رپورٹس کے مطابق اہم معدنی وسائل کی کمی اب صنعتی شعبے سے نکل کر پوری معیشت کو متاثر کرنے لگی ہے۔
مالیاتی ادارے میزوہو کے مطابق اگر چین سے درآمدات طویل عرصے تک معطل رہیں تو جاپان کی مجموعی قومی پیداوار میں صفر اعشاریہ نو فیصد سے زیادہ کمی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مئی اور جون کے دوران درجنوں جاپانی کمپنیوں نے نایاب معدنیات کی فراہمی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔ یہ معدنیات برقی گاڑیوں، جدید ٹیکنالوجی، دفاعی آلات اور دیگر اہم مصنوعات کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
چین اس وقت دنیا میں نایاب معدنیات کی فراہمی کے سب سے بڑے مراکز میں شامل ہے اور بیجنگ نے ان وسائل کو سفارتی دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
جاپانی حکومت، وزیر اعظم سانائے تاکائچی کی قیادت میں، متبادل ذرائع تلاش کرنے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ نئے معاہدوں، معدنیات کی دوبارہ بازیافت اور سمندر کی گہرائیوں سے وسائل حاصل کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اہم معدنیات کو نئی معاشی جنگ کا مرکز بنا دیا ہے، جہاں رسد کے ذرائع پر کنٹرول مستقبل کی صنعتی اور دفاعی طاقت کا اہم عنصر بن سکتا ہے





