آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر میزائل حملے، عالمی تجارت کے لیے خطرے کی گھنٹی
تہران: ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کم از کم دو تجارتی جہازوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، امریکی حکام کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق دونوں جہازوں کو نمایاں نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
رپورٹ کے مطابق یہ حملے پیر کی رات کیے گئے۔ امریکی حکام نے بتایا کہ میزائل حملوں کے نتیجے میں متاثرہ بحری جہازوں کو نقصان پہنچا، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
برطانیہ کے بحری تجارتی نگرانی ادارے نے بھی اطلاع دی کہ عمان کے علاقے لیماہ سے تقریباً آٹھ بحری میل مشرق میں سفر کرنے والے ایک ٹینکر کو نامعلوم سمت سے آنے والے ایک ہتھیار نے نشانہ بنایا، جس کے بعد جہاز کے ایک حصے میں آگ لگ گئی۔ حکام کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی سمندری ماحول کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ملی۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی فوجی کشیدگی سے عالمی منڈیوں اور تیل کی ترسیل پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے الزامات خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عالمی طاقتوں کے لیے ایک نیا سفارتی اور سکیورٹی چیلنج پیدا کر سکتے ہیں





