لندن میں تہلکہ: ایرانی ٹی وی صحافی پر حملہ، دو رومانی شہریوں کو قید — عدالت نے واقعہ کو “ریاستی سطح کا ٹارگٹڈ اٹیک” قرار دے دیا
لندن (کرائم رپورٹس ڈیسک) — برطانیہ میں ایک ہائی پروفائل کیس میں عدالت نے دو رومانی شہریوں کو ایک ایرانی نژاد ٹی وی صحافی پر چاقو حملے کے جرم میں قید کی سزا سنا دی ہے، جسے جج نے “منظم اور ٹارگٹڈ حملہ” قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق متاثرہ صحافی پوریا زراعتی، جو لندن میں قائم فارسی زبان کے نیوز چینل ایران انٹرنیشنل سے وابستہ ہیں، پر یہ حملہ لندن کے علاقے ومبلڈن میں ان کے گھر کے باہر کیا گیا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق حملے میں صحافی کو تین بار چاقو مارا گیا، جس کے بعد وہ شدید زخمی حالت میں سڑک پر گر گئے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دستیاب شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ حملہ ممکنہ طور پر ایران کے ریاستی ڈھانچے کے مفاد میں کیا گیا۔
یہ کیس اس وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ اور یورپ میں سیاسی صحافیوں اور جلاوطن میڈیا ورکرز کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات پہلے ہی بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ یورپ میں “اسپانسرڈ یا پراکسی حملوں” کے خطرات پر نئی بحث چھیڑ سکتا ہے۔
برطانوی سیکیورٹی حکام نے واقعے کے بعد ایرانی اپوزیشن صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے تحفظ کے اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں، جبکہ تحقیقات جاری ہیں کہ آیا اس حملے کے پیچھے کسی بڑے نیٹ ورک کا ہاتھ تھا یا نہیں۔
یہ مقدمہ نہ صرف ایک مجرمانہ کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر ریاستی اثر و رسوخ، خفیہ کارروائیوں اور صحافتی آزادی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش کی علامت بھی بن گیا ہے




