ویتنام کی نئی حکمتِ عملی: صرف مینوفیکچرنگ نہیں، اب ایشیا کا ثقافتی پاور ہاؤس بننے کی دوڑ
ویتنام اپنی معیشت کو صرف صنعتی پیداوار تک محدود رکھنے کے بجائے اب خود کو ایشیا کے ایک بڑے ثقافتی اور تخلیقی مرکز کے طور پر بھی ابھارنے کی کوشش کر رہا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق ویتنام کی برآمدات پر مبنی معیشت اب بتدریج اس سمت بڑھ رہی ہے کہ وہ صرف سستی مینوفیکچرنگ سے آگے نکل کر “انٹلیکچوئل پراپرٹی” اور برانڈ ویلیو پر مبنی صنعتوں میں اپنی جگہ بنائے۔
اس تبدیلی کی ایک مثال اس وقت سامنے آئی جب عالمی پاپ اسٹار جسٹن بیبر نے اپنے حالیہ کوچیلا پرفارمنس میں ایک منفرد انداز کے “پفّا شارٹس” پہنے، جو ویتنامی نژاد امریکی ڈیزائنر ہنگ لا کے فیشن لیبل سے منسلک تھے۔ اس لباس نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی اور ویتنامی فیشن انڈسٹری کے لیے ایک غیر معمولی تشہیر بن گیا۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ ویتنام اب اپنی ثقافتی مصنوعات، فیشن، تخلیقی ڈیزائن اور برانڈنگ کے ذریعے عالمی ویلیو چین میں اوپر جانا چاہتا ہے، جہاں صرف سستی پیداوار نہیں بلکہ “برانڈ پاور” اصل اقتصادی طاقت بن جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر یہ حکمت عملی کامیاب ہوتی ہے تو ویتنام مستقبل میں جنوبی کوریا اور جاپان کی طرز پر ایک مضبوط ثقافتی معیشت کے طور پر سامنے آ سکتا ہے، جہاں موسیقی، فیشن اور پاپ کلچر ملک کی اقتصادی شناخت کا اہم حصہ بن جاتے ہیں





