بندر عباس میں جنگ کے اثرات: قیمتوں میں اضافہ، روزگار متاثر، شہری شدید دباؤ میں

بندر عباس میں جنگ کے اثرات: قیمتوں میں اضافہ، روزگار متاثر، شہری شدید دباؤ میں

ایران کے اہم بندرگاہی شہر بندر عباس میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال نے عام شہریوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق شہر میں رہنے والے افراد روزگار کے مسائل اور روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں۔

بندر عباس آبنائے ہرمز کے شمالی کنارے پر واقع ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے یہ خطہ عالمی توانائی تجارت میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

مقامی شہریوں کے مطابق کشیدگی کے باعث معاشی سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں۔ ماہی گیروں نے سمندر میں جانے سے گریز شروع کر دیا ہے کیونکہ وہ اپنی حفاظت کے بارے میں خوف محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح آٹو ورکشاپ مالکان کا کہنا ہے کہ پرزہ جات اور دیگر ضروری سامان کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہیں، جس سے کاروبار چلانا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک مقامی بیکری مالک نے الجزیرہ کو بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے ادویات خریدنے کے قابل نہیں رہی، جس سے عام خاندانوں کی مشکلات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

شہر کے ایک دکاندار کے مطابق:

“آپ رات کو سوتے ہیں اور صبح جاگتے ہیں تو قیمتیں بڑھ چکی ہوتی ہیں۔”

تجزیہ کاروں کے مطابق بندر عباس جیسے اسٹریٹجک شہر میں معاشی دباؤ نہ صرف مقامی آبادی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ خطے میں توانائی اور تجارت کے عالمی بہاؤ پر بھی ممکنہ اثرات ڈال سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید