تشدد، مہنگائی، لاقانونیت اور بے یقینی کے بیچ کھڑا معاشرہ — ترقی کے نعروں اور زمینی حقیقت کے درمیان بڑھتا فاصلہ

اسلام آباد — ایک ایسے وقت میں جب ریاستی سطح پر بلند اہداف، عالمی برادری میں بڑھتے ہوئے کردار اور مستقبل کی معاشی و سفارتی ترقی کے دعوے کیے جا رہے ہیں، زمینی حقیقت ایک مختلف اور زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں ایک طرف معاشی دباؤ، مہنگائی اور روزگار کی کمی عام شہری کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہے، تو دوسری طرف سماجی سطح پر بڑھتے ہوئے تشدد، خاندانی سانحات اور جرائم کی خبریں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا اور خبروں میں روزانہ ایسے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں جن میں پولیس تشدد، اغوا، تاوان، گھریلو تنازعات اور خاندانی قتل جیسے سنگین معاملات سامنے آتے ہیں، جو مجموعی سماجی بے چینی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب کسی معاشرے میں انصاف کے ادارے کمزور محسوس ہوں، قانون کا نفاذ غیر مساوی ہو، اور بنیادی سماجی تحفظ کمزور پڑ جائے تو وہاں اعتماد کی جگہ خوف اور بے یقینی جنم لینے لگتی ہے۔ یہی بے یقینی پھر معاشرتی رویوں میں سختی، عدم برداشت اور تشدد کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اسی دوران تعلیمی بحران بھی ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آ رہا ہے، جہاں لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جس کے بارے میں مختلف اندازوں کے مطابق تعداد کروڑوں تک بتائی جاتی ہے۔ ماہرین اس صورتحال کو صرف تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک “مستقبل کا سماجی بحران” قرار دیتے ہیں، کیونکہ تعلیم سے محروم نسلیں معاشرتی ترقی کے بجائے سماجی دباؤ میں اضافہ کرتی ہیں۔ دوسری جانب ریاستی بیانیہ ترقی، عالمی مقام اور آنے والے برسوں میں بڑے معاشی و سفارتی اہداف کے حصول پر مرکوز ہے۔ تاہم تجزیہ کار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جب بیانیہ اور زمینی حقیقت کے درمیان فاصلہ بڑھ جائے تو معاشرے میں اعتماد کا بحران جنم لیتا ہے، جو طویل مدت میں اداروں کی ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہے۔ سماجی ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں معاشرے کا سب سے بڑا خطرہ صرف معاشی یا سیاسی نہیں ہوتا بلکہ “معمول بن جانے والا تشدد” ہوتا ہے۔ جب قتل، خودکشی، پولیس کارروائیاں اور گھریلو سانحات خبر نہیں بلکہ روزمرہ حقیقت بن جائیں تو معاشرہ ایک خاموش بحران میں داخل ہو جاتا ہے۔ تجزیہ کار اس صورتحال کو ایک انتباہ کے طور پر دیکھتے ہیں کہ اگر ادارہ جاتی انصاف، معاشی استحکام اور سماجی تحفظ ایک ساتھ مضبوط نہ ہوں تو ترقی کے اہداف صرف کاغذی منصوبے بن کر رہ جاتے ہیں، جبکہ زمینی سطح پر عوامی زندگی مزید دباؤ اور عدم تحفظ کا شکار رہتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سوال یہ نہیں کہ “کیا ترقی ممکن ہے”، بلکہ یہ ہے کہ “کیا ترقی اور انصاف ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں؟” کیونکہ جب انصاف کمزور ہو جائے تو ترقی کے بلند دعوے بھی معاشرتی سکون واپس نہیں لا سکتے

قومی خبریں سے مزید