Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہٹرمپ کی مقبولیت کو بڑا دھچکا، مینی سوٹا میں اپنی حمایت یافتہ...

ٹرینڈنگ

ٹرمپ کی مقبولیت کو بڑا دھچکا، مینی سوٹا میں اپنی حمایت یافتہ امیدوار کو بھی نہ جتوا سکے

ٹرمپ کی مقبولیت کو بڑا دھچکا، مینی سوٹا میں اپنی حمایت یافتہ امیدوار کو بھی نہ جتوا سکے

امریکہ کے 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے منگل کی پرائمری نے امریکی سیاست میں ایک ایسا سیاسی زلزلہ پیدا کر دیا ہے جس کے اثرات نومبر کے انتخابات تک محسوس کیے جا سکتے ہیں،مینی سوٹا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ امیدوار کو شکست، ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کی اہم کامیابی اور پارٹی قیادت کی توثیق کو نظرانداز کرتے ہوئے ووٹروں کے اپنے فیصلے نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا امریکی سیاست میں روایتی سیاسی طاقت کے مراکز کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے
سب سے بڑا دھچکا ریپبلکن پارٹی کو مینی سوٹا میں لگا، جہاں ٹرمپ کی بھرپور حمایت حاصل کرنے والے مائیک لنڈل گورنر کے ریپبلکن پرائمری میں شکست کھا گئے،لیزا ڈیموتھ نے تقریباً 43.4 فیصد ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی، جبکہ ٹرمپ کے حمایت یافتہ لنڈل صرف 32.5 فیصد پر رک گئے،ٹرمپ کی حمایت کے باوجود لنڈل کو تقریباً 11 فیصد پوائنٹس سے شکست ہوئی
یہ نتیجہ اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ لنڈل نے ٹرمپ کی حمایت کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی سیاسی سرمایہ بنایا تھا،خود ٹرمپ کی حمایت کے علاوہ ریپبلکن سیاست میں لنڈل کی شناخت بھی ٹرمپ کے سیاسی حلقے کے ساتھ گہری وابستگی کی وجہ سے تھی، لیکن پرائمری کے ووٹروں نے پارٹی کے سب سے طاقتور سیاسی رہنما کی پسند کو قبول نہیں کیا
مینی سوٹا میں ڈیموکریٹس نے اس کے برعکس ترقی پسند سیاست کے لیے ایک اہم کامیابی حاصل کی،سینیٹ کے ڈیموکریٹک پرائمری میں پیگی فلاناگن نے نسبتاً معتدل امیدوار اینجی کریگ کو شکست دے دی،فلاناگن نے اپنی مہم میں بڑی کارپوریشنوں کے سیاسی اثرورسوخ کو چیلنج کرنے اور ریپبلکن صدر ٹرمپ کے خلاف بھرپور مزاحمت کا وعدہ کیا تھا
اس کے ساتھ ہی ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک اور اہم پرائمری میں ترقی پسند امیدوار میٹ لٹل نے کامیابی حاصل کرکے نومبر کے عام انتخابات میں ریپبلکن امیدوار ایرک پریٹ کے مقابلے کا راستہ بنا لیا ہے
مینی سوٹا کا انتخابی نقشہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ریاست میں نومبر میں گورنر کا مقابلہ اب سینیٹر ایمی کلبوچر اور ریاستی ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر لیزا ڈیموتھ کے درمیان ہونے جا رہا ہے،یوں ایک طرف ڈیموکریٹس نے ترقی پسند دھڑے کی بڑھتی ہوئی قوت کا مظاہرہ کیا ہے اور دوسری طرف ریپبلکن ووٹروں نے ٹرمپ کی پسند کو مسترد کرتے ہوئے اپنے امیدوار کا انتخاب کیا ہے
یہ نتائج وسکونسن اور جنوبی کیرولائنا کے نتائج کے ساتھ ملا کر دیکھے جائیں تو ایک وسیع تر تصویر سامنے آتی ہے،وسکونسن میں بائیں بازو کی امیدوار فرانسسکا ہانگ کو توقعات کے برعکس ڈیوڈ کراؤلی نے معمولی فرق سے شکست دی، جبکہ جنوبی کیرولائنا میں ٹرمپ کی حمایت یافتہ امیدوار نینسی میس ریپبلکن پرائمری میں پانچویں نمبر پر رہیں
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ٹرمپ کی سیاسی طاقت ختم ہو گئی ہے، لیکن 2026 کے پرائمری نتائج یہ ضرور بتا رہے ہیں کہ ٹرمپ کی حمایت اب ہر ریپبلکن امیدوار کے لیے کامیابی کی ضمانت نہیں رہی،دوسری طرف ڈیموکریٹس میں ترقی پسند امیدواروں کی مسلسل کامیابیاں پارٹی کے اندر طاقت کے توازن میں تبدیلی کی نشاندہی کر رہی ہیں
11 اگست کے پرائمری نتائج کا سب سے بڑا سیاسی پیغام یہی ہے کہ 2026 میں امریکی ووٹر پارٹی قیادت، بڑے مالی اخراجات اور طاقتور سیاسی شخصیات کے دباؤ سے آزاد ہو کر فیصلے کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ تیار دکھائی دے رہا ہے،اگر یہی رجحان نومبر تک برقرار رہا تو وسط مدتی انتخابات صرف کانگریس کے کنٹرول کا مقابلہ نہیں ہوں گے بلکہ یہ ٹرمپ کے دوسرے دور کی سیاسی طاقت اور دونوں جماعتوں کے مستقبل کی سمت کا بھی فیصلہ بن سکتے ہیں

مزید پڑھیں