Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہامریکی انتخابات 2026: ڈیموکریٹس میں نظریاتی جنگ، ٹرمپ کی سیاسی گرفت بھی...

ٹرینڈنگ

امریکی انتخابات 2026: ڈیموکریٹس میں نظریاتی جنگ، ٹرمپ کی سیاسی گرفت بھی آزمائش میں

امریکی انتخابات 2026: ڈیموکریٹس میں نظریاتی جنگ، ٹرمپ کی سیاسی گرفت بھی آزمائش میں

امریکہ میں 2026 کے وسط مدتی انتخابات کی تیاریوں کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بائیں بازو اور معتدل دھڑے کے درمیان سیاسی کشمکش مزید نمایاں ہو گئی ہے، جبکہ ریپبلکن پارٹی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیدواروں پر اثرانداز ہونے کی طاقت بھی بعض اہم پرائمری نتائج کے بعد سوالات کی زد میں آ گئی ہے
وسکونسن کے گورنر کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخاب میں بائیں بازو کی امیدوار اور ریاستی اسمبلی کی رکن فرانسسکا ہانگ کو سخت مقابلے کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا،ہانگ، جو جز وقتی طور پر بار ٹینڈر کے طور پر بھی کام کرتی ہیں، انتخاب سے قبل رائے عامہ کے جائزوں میں مضبوط امیدوار سمجھی جا رہی تھیں، تاہم ملواکی کاؤنٹی کے ایگزیکٹو ڈیوڈ کراؤلی نے معمولی فرق سے کامیابی حاصل کر لی
رپورٹ کے مطابق ہانگ کی شکست اس تاثر کو چیلنج کرتی ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات میں بائیں بازو کے امیدواروں کو اب واضح برتری حاصل ہو چکی ہے،اگرچہ پارٹی کے ترقی پسند دھڑے نے گزشتہ چند برسوں میں خاص طور پر بڑے شہری علاقوں میں نمایاں سیاسی طاقت حاصل کی ہے، وسکونسن کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ معتدل امیدوار اب بھی پارٹی کے ووٹروں میں مضبوط حمایت حاصل کر سکتے ہیں
دوسری جانب ریپبلکن پارٹی میں صدر ٹرمپ کی سیاسی طاقت بھی بعض ریاستوں میں آزمائش سے گزر رہی ہے،جنوبی کیرولائنا اور مینیسوٹا کے انتخابی نتائج نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا ٹرمپ کی حمایت اب بھی ہر ریپبلکن پرائمری میں امیدواروں کی کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے یا نہیں
ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کو اپنی سیاسی قیادت کے تحت غیر معمولی طور پر منظم کیا ہے اور ان کی توثیق اکثر پارٹی کے امیدواروں کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے،تاہم حالیہ پرائمری نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کے ووٹر بعض مقابلوں میں ٹرمپ کی ترجیحات سے ہٹ کر بھی فیصلہ کرنے پر آمادہ ہیں
کنیکٹیکٹ میں ایک عمر رسیدہ ڈیموکریٹ رکنِ ایوانِ نمائندگان کی شکست بھی انتخابی نتائج کے ایک اور اہم رجحان کی نشاندہی کرتی ہے،ڈیموکریٹک پارٹی میں نئی نسل کے امیدواروں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے ساتھ پرانے سیاسی چہروں کو اپنے حلقوں میں بڑھتے ہوئے چیلنج کا سامنا ہے
2026 کے انتخابات کے ابتدائی مرحلے میں سامنے آنے والے یہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ آئندہ چند ماہ امریکی سیاست میں دونوں جماعتوں کے اندرونی توازن کے لیے بھی انتہائی اہم ہوں گے،ڈیموکریٹس کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ بائیں بازو کے بڑھتے ہوئے اثر کو قبول کرتے ہیں یا انتخابی کامیابی کے لیے معتدل امیدواروں کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ ریپبلکن پارٹی میں یہ سوال اہم ہوتا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کی سیاسی گرفت 2026 کے پورے انتخابی عمل میں کس حد تک برقرار رہتی ہے

مزید پڑھیں