Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںبرطانیہ میں امیگریشن کے خلاف سوچ: روس پہلے، پاکستان دوسرے، بھارت بھی...

ٹرینڈنگ

برطانیہ میں امیگریشن کے خلاف سوچ: روس پہلے، پاکستان دوسرے، بھارت بھی فہرست میں ، اسرائیل کے خلاف نفرت میں بڑا اضافہ

برطانیہ میں امیگریشن کے خلاف سوچ: روس پہلے، پاکستان دوسرے، بھارت بھی فہرست میں ، اسرائیل کے خلاف نفرت میں بڑا اضافہ
رپورٹ آفاق فاروقی
برطانیہ میں مہاجرت کے بارے میں عوامی رائے گزشتہ ایک دہائی میں واضح طور پر زیادہ سخت ہوئی ہے،یوگوو کے تازہ سروے⁠ کے مطابق 69 فیصد برطانوی شہری سمجھتے ہیں کہ گزشتہ 10 برس میں برطانیہ میں امیگریشن بہت زیادہ رہی، جبکہ 43 فیصد اب امیگریشن کو ملک کے لیے مجموعی طور پر نقصان دہ قرار دیتے ہیں،2016 میں یہ شرح صرف 33 فیصد تھی
لیکن اس سروے کا زیادہ چونکا دینے والا پہلو یہ ہے کہ برطانوی عوام مختلف ملکوں سے آنے والے تارکینِ وطن کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھتے،روس اس فہرست میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ ملک بن کر سامنے آیا ہے، 58 فیصد برطانوی چاہتے ہیں کہ روس سے آنے والے تارکینِ وطن کی تعداد کم کی جائے یا بالکل نہ آنے دی جائے، جبکہ پاکستان 52 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر اور نائیجیریا 48 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، یہاں واضع رہے برطانوی پارلیمنٹ کے ساتھ شہری حکومتوں کی نمائندگی میں بھی آزاد کشمیرکے ساتھ پاکستانی نژاد باشندوں کی ایک اچھی بڑی نمائندگی موجود ہے جو یقیناً مقامی ووٹرز کے بغیر ناممکن ہے مگر اس کے باوجود پاکستانی امیگرنٹس کے خلاف Native برطانوی شہریوں کی ناپسندیدگی کی وجہ پاکستانیوں کی مذہبی جنونیت کے ساتھ برطانیہ کے بڑے شہروں میں پاکستانی سیاست کے ساتھ مذہبی رسومات کی آئے دن سڑکوں پر ادائیگی بتای جاتی ہے ،
بھارت بھی اس فہرست میں نمایاں طور پر موجود ہے،سروے میں 44 فیصد برطانوی شہریوں نے بھارت سے آنے والے تارکینِ وطن کی تعداد کم کرنے کی خواہش ظاہر کی، جو 2016 کے مقابلے میں 5 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔ امریکہ کے لیے یہ شرح 24 فیصد ہے
دوسری طرف مغربی اور نسبتاً ترقی یافتہ ممالک سے آنے والوں کے بارے میں رویہ نمایاں طور پر مختلف ہے،آئرلینڈ سے زیادہ یا اتنے ہی تارکینِ وطن آنے کی حمایت 69 فیصد، کینیڈا سے 68 فیصد اور آسٹریلیا سے 68 فیصد ہے،سویڈن کے لیے یہ شرح 64 فیصد، جرمنی 62 فیصد، جاپان 58 فیصد اور امریکہ 55 فیصد ہے،پولینڈ، جو کبھی برطانیہ میں امیگریشن کے خلاف سیاسی بحث کا مرکزی موضوع تھا، اب 53 فیصد برطانویوں کو یا تو موجودہ تعداد قابل قبول لگتی ہے یا وہ مزید پولش تارکینِ وطن کے حق میں ہیں
یہ تبدیلی خاص طور پر روس کے معاملے میں ڈرامائی ہے،2016 کے مقابلے میں روس سے کم یا بالکل نہ آنے والے تارکینِ وطن کی حمایت میں 13 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے،یوگوو کے مطابق اس تبدیلی کی بڑی وجہ 2022 میں روس کا یوکرین پر حملہ قرار دیا جا سکتا ہے،اسرائیل کے معاملے میں بھی صورت حال تیزی سے بدلی ہے: 2016 میں 39 فیصد برطانوی اسرائیل سے کم تارکینِ وطن چاہتے تھے، اب یہ تعداد 47 فیصد ہو چکی ہے
یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے: یہودیوں کے بارے میں 40 فیصد نفرت یا ناپسندیدگی کا یہ دعویٰ اس یوگوو سروے سے ثابت نہیں ہوتا،موجودہ سروے نے یہودی برادری کے بارے میں سوال نہیں کیا بلکہ مختلف ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن کے بارے میں رائے پوچھی ہے،اس لیے اسرائیل سے متعلق 47 فیصد کے اعداد کو براہِ راست یہودیوں کے خلاف 47 یا 40 فیصد نفرت قرار دینا اعداد و شمار کو غلط معنی دینا ہوگا
سروے کا ایک اور اہم پہلو مذہب سے متعلق ہے،مجموعی طور پر صرف 34 فیصد برطانویوں نے کہا کہ کسی معاشی تارکِ وطن کے مذہب کو برطانیہ میں داخلے کے فیصلے میں اہمیت دینی چاہیے، جبکہ 17 فیصد نے اسے ’’بہت اہم‘‘ قرار دیا،تاہم سیاسی تقسیم یہاں انتہائی نمایاں ہے،اصلاحی جماعت کے حامیوں میں 67 فیصد مذہب کو اہم سمجھتے ہیں، جبکہ سبز جماعت کے حامیوں میں یہ شرح صرف 12 فیصد ہے
اس کے برعکس جرائم کا سابقہ، انگریزی زبان اور برطانیہ میں مطلوبہ مہارتیں مذہب سے کہیں زیادہ اہم سمجھی گئیں۔ 94 فیصد نے سنگین یا پرتشدد جرائم کے ریکارڈ کو اہم قرار دیا، 89 فیصد نے معمولی یا غیر پرتشدد جرائم کے ریکارڈ کو اہم کہا، جبکہ 86 فیصد نے انگریزی زبان کی اہلیت کو اہم سمجھا
اس سروے کی اصل کہانی شاید ’’برطانوی کس قوم کو پسند نہیں کرتے‘‘ سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ اعداد بتاتے ہیں کہ برطانیہ میں مہاجرت کے بارے میں ایک عمومی بے چینی بڑھ رہی ہے، لیکن اس بے چینی کی شدت مختلف قومیتوں کے لیے یکساں نہیں،روس کے معاملے میں جنگ اور سلامتی، اسرائیل کے معاملے میں غزہ کی جنگ، بھارت کے معاملے میں حالیہ برسوں میں بھارتی مہاجرت میں تیز اضافہ، جبکہ پاکستان کے معاملے میں شاید برطانیہ میں پہلے سے موجود بڑی پاکستانی آبادی اور اس سے جڑی سیاسی و سماجی و مذہبی بحثیں اس رائے کی تشکیل میں مختلف کردار ادا کر رہی ہیں، بھارت کے بارے میں یوگوو بھی ممکنہ وجہ کے طور پر 2021 کے بعد بھارتی مہاجرت میں نمایاں اضافے کی طرف اشارہ کرتا ہے
یعنی برطانیہ کی یہ نئی تصویر محض ’’نسلی نفرت‘‘ کی سادہ کہانی نہیں بلکہ مہاجرت، قومی سلامتی، جنگوں، آبادی میں تبدیلی اور اندرونی سیاسی تقسیم کے باہم مل جانے کی کہانی ہے، اور شاید سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ 2016 کے بعد برطانوی معاشرے میں مہاجرت کے بارے میں صرف دائیں بازو کے ووٹروں کی سوچ نہیں بدلی،یوگوو کے مطابق باقی رہنے کے حامی ووٹروں میں بھی مہاجرت کو نقصان دہ سمجھنے والوں کی شرح بڑھی ہے
اہم اعداد،روس 58 فیصد، پاکستان 52 فیصد، نائیجیریا 48 فیصد، اسرائیل 47 فیصد، بھارت 44 فیصد، ترکی 43 فیصد،یہ وہ ممالک ہیں جن سے کم یا بالکل نہ آنے والے تارکینِ وطن کی حمایت نسبتاً زیادہ ہے

مزید پڑھیں