پاکستان میں عالمی غذائی مہنگائی کے خطرات بڑھنے کا خدشہ
پاکستان میں عالمی غذائی مہنگائی کے خطرات بڑھنے کا خدشہ
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر غذائی اشیا کی قیمتیں توقع سے زیادہ بڑھ سکتی ہیں جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ سکتے ہیں
اسٹیٹ بینک کی ششماہی مالیاتی پالیسی رپورٹ کے مطابق خطے میں جاری جنگ نے پاکستان جیسے ممالک میں غذائی قیمتوں پر زیادہ شدید اثر ڈالا ہے
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کھاد مہنگی ہوئی ہے جس سے زرعی شعبے کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستان پہلے ہی غذائی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کر رہا ہے
اسٹیٹ بینک کے مطابق گیس کی بلند قیمتوں اور رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں ایل نینو کے خطرے کے باعث زرعی اجناس کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں جس سے عالمی غذائی مہنگائی توقع سے زیادہ ہونے کا خدشہ ہے
پاکستان کا زرعی شعبہ پانی کی کمی، پرانے آبپاشی نظام اور جدید ٹیکنالوجی کے محدود استعمال جیسے مسائل کا بھی سامنا کر رہا ہے جبکہ کھاد، بجلی اور مہنگے بیج کسانوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ کر رہے ہیں
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے بحران نے عالمی گیس مارکیٹ کو بھی متاثر کیا ہے کیونکہ قطر سے ایل این جی کی فراہمی میں خلل پڑا جس کے نتیجے میں کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور اس کے اثرات زرعی اجناس کی قیمتوں پر پڑے
پاکستان سے غذائی اشیا کی برآمدات مالی سال 2026 میں 25 فیصد کم ہوکر 4 ارب 74 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہ گئیں جبکہ مالی سال 2025 میں یہ برآمدات 6 ارب 33 کروڑ ڈالر تھیں
چاول کی برآمدات میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی جو 31 فیصد کم ہوکر 2 ارب 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہ گئیں
اسٹیٹ بینک کے مطابق عالمی اجناس کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں سے پاکستان کی تجارتی شرائط توقع سے زیادہ خراب ہوئی ہیں جبکہ عالمی اقتصادی ترقی کے امکانات بھی پہلے کے مقابلے میں غیر یقینی ہوگئے ہیں
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں دونوں میں مہنگائی پر پڑ سکتے ہیں


