Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانپاکستان میں عالمی غذائی مہنگائی کے خطرات بڑھنے کا خدشہ

ٹرینڈنگ

پاکستان میں عالمی غذائی مہنگائی کے خطرات بڑھنے کا خدشہ

پاکستان میں عالمی غذائی مہنگائی کے خطرات بڑھنے کا خدشہ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر غذائی اشیا کی قیمتیں توقع سے زیادہ بڑھ سکتی ہیں جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ سکتے ہیں
اسٹیٹ بینک کی ششماہی مالیاتی پالیسی رپورٹ کے مطابق خطے میں جاری جنگ نے پاکستان جیسے ممالک میں غذائی قیمتوں پر زیادہ شدید اثر ڈالا ہے
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کھاد مہنگی ہوئی ہے جس سے زرعی شعبے کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستان پہلے ہی غذائی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کر رہا ہے
اسٹیٹ بینک کے مطابق گیس کی بلند قیمتوں اور رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں ایل نینو کے خطرے کے باعث زرعی اجناس کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں جس سے عالمی غذائی مہنگائی توقع سے زیادہ ہونے کا خدشہ ہے
پاکستان کا زرعی شعبہ پانی کی کمی، پرانے آبپاشی نظام اور جدید ٹیکنالوجی کے محدود استعمال جیسے مسائل کا بھی سامنا کر رہا ہے جبکہ کھاد، بجلی اور مہنگے بیج کسانوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ کر رہے ہیں
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے بحران نے عالمی گیس مارکیٹ کو بھی متاثر کیا ہے کیونکہ قطر سے ایل این جی کی فراہمی میں خلل پڑا جس کے نتیجے میں کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور اس کے اثرات زرعی اجناس کی قیمتوں پر پڑے
پاکستان سے غذائی اشیا کی برآمدات مالی سال 2026 میں 25 فیصد کم ہوکر 4 ارب 74 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہ گئیں جبکہ مالی سال 2025 میں یہ برآمدات 6 ارب 33 کروڑ ڈالر تھیں
چاول کی برآمدات میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی جو 31 فیصد کم ہوکر 2 ارب 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہ گئیں
اسٹیٹ بینک کے مطابق عالمی اجناس کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں سے پاکستان کی تجارتی شرائط توقع سے زیادہ خراب ہوئی ہیں جبکہ عالمی اقتصادی ترقی کے امکانات بھی پہلے کے مقابلے میں غیر یقینی ہوگئے ہیں
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں دونوں میں مہنگائی پر پڑ سکتے ہیں

مزید پڑھیں