Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہبالائی وسط مغربی ریاستوں کے پرائمری انتخابات میں ترقی پسند سیاست اور...

ٹرینڈنگ

بالائی وسط مغربی ریاستوں کے پرائمری انتخابات میں ترقی پسند سیاست اور ٹرمپ کے اثر و رسوخ کا امتحان

بالائی وسط مغربی ریاستوں کے پرائمری انتخابات میں ترقی پسند سیاست اور ٹرمپ کے اثر و رسوخ کا امتحان

منیسوٹا اور وسکونسن میں منگل کو ہونے والے گورنر کے پرائمری انتخابات امریکی سیاست میں دونوں بڑی جماعتوں کے نظریاتی انتہاؤں کے لیے ایک اہم امتحان بن گئے ہیں
منیسوٹا میں سابق مائی پِلو چیف ایگزیکٹو اور 2020 کے صدارتی انتخابات سے متعلق سازشی دعووں کے نمایاں پرچارک مائیک لنڈیل ریپبلکن پارٹی کی گورنری نامزدگی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لنڈیل کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی قومی سطح پر شناخت اور انتخابی مہم کے لیے چندہ جمع کرنے کی صلاحیت انہیں مختلف طبقات کے ووٹروں تک پہنچنے میں مدد دے سکتی ہے
دوسری جانب وسکونسن میں فرانسسکا ہانگ ڈیموکریٹک پارٹی کی گورنری نامزدگی کی امیدوار ہیں،ہانگ خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ قرار دیتی ہیں اور کامیاب ہونے کی صورت میں وسکونسن کی پہلی ڈیموکریٹک سوشلسٹ گورنر بن سکتی ہیں
دونوں امیدوار اپنی اپنی جماعتوں کے نظریاتی دھارے کے انتہائی سرے پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں انہیں زیادہ روایتی اور معتدل امیدواروں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اسی وجہ سے ان کی ممکنہ کامیابی نے دونوں جماعتوں میں انتخابی کامیابی کی صلاحیت کے بارے میں سوالات بھی اٹھا دیے ہیں
رائٹرز اور اِپسوس کے ایک حالیہ سروے کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے زیادہ لبرل ووٹرز میں کارپوریشنوں پر زیادہ ٹیکس عائد کرنے، اسقاط حمل تک رسائی کے تحفظ اور تمام شہریوں کے لیے صحت کی عالمی سہولت جیسے معاملات کو زیادہ ترجیح حاصل ہے
منیسوٹا اور وسکونسن کے یہ انتخابات اس وسیع تر سوال کا بھی امتحان ہیں کہ موجودہ سیاسی ماحول میں امریکی ووٹرز کس حد تک اپنی جماعتوں کے زیادہ نظریاتی اور غیر روایتی امیدواروں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ریپبلکن پارٹی میں ٹرمپ کا اثر و رسوخ اور ڈیموکریٹک پارٹی میں ترقی پسند سیاست کی بڑھتی ہوئی طاقت، دونوں کا عکس ان پرائمری انتخابات میں نمایاں ہو رہا ہے

مزید پڑھیں