Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںایرانی قاتلانہ دھمکی کے باعث ٹرمپ نے ترکی سے خفیہ پرواز کی،...

ٹرینڈنگ

ایرانی قاتلانہ دھمکی کے باعث ٹرمپ نے ترکی سے خفیہ پرواز کی، وائٹ ہاؤس نے عوام کو مختلف تصویر دکھائی

ایرانی قاتلانہ دھمکی کے باعث ٹرمپ نے ترکی سے خفیہ پرواز کی، وائٹ ہاؤس نے عوام کو مختلف تصویر دکھائی

ترکی میں نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سفر کو غیر معمولی خفیہ آپریشن کے ذریعے چھپایا گیا،ایرانی جانب سے ٹرمپ کو قتل کرنے کی دھمکی کے بعد گزشتہ ماہ صدر نے ترکی سے ایک متبادل فوجی طیارے کے ذریعے خفیہ پرواز کی، اور صدر ٹرمپ کو رن وے پر کھڑے فوجی جہاز میں لیجانے تک کے لیے بھی ایک کیٹرنگ ٹرک کو استعمال کیا گیا ، جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا کہ وہ معمول کے مطابق صدارتی طیارے ایئر فورس ون پر سوار تھے
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ خفیہ کارروائی اس طرح انجام دی گئی کہ صحافیوں اور وائٹ ہاؤس کے بعض اہلکاروں کو بھی علم نہیں تھا کہ صدر ان کے ساتھ موجود طیارے میں نہیں ہیں،ان اہلکاروں اور صحافیوں کا خیال تھا کہ وہ اسی طیارے میں سفر کر رہے ہیں جس میں صدر ٹرمپ موجود ہیں،
اخبار نے آپریشن سے متعلق مواد کا جائزہ لینے کے ساتھ ایک امریکی عہدیدار اور صدر کے سفری انتظامات سے واقف ایک دوسرے شخص سے بھی معلومات حاصل کی ہیں،دونوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں اس معاملے پر بات کرنے کا اختیار نہیں تھا
یہ واقعہ ٹرمپ کی سلامتی کے حوالے سے معمول سے کہیں زیادہ سخت اقدامات کی نشاندہی کرتا ہے،ایرانی دھمکی کے باعث صدر کے سفر کے اصل انتظامات کو نہ صرف عوام بلکہ ان کے اپنے انتظامی حلقے کے ایک حصے سے بھی پوشیدہ رکھا گیا
وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس دوران جو سرکاری معلومات فراہم کی گئیں، ان سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ صدر ایئر فورس ون پر سوار ہو کر نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد ترکی سے روانہ ہوئے ہیں،تاہم واشنگٹن پوسٹ کی تحقیقات کے مطابق صدر کی اصل روانگی اس سرکاری بیان سے مختلف تھی
یہ خفیہ پرواز اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ امریکی صدر کے بیرون ملک سفر میں صحافیوں کا ایک مخصوص دستہ عموماً صدر کے طیارے کے ساتھ سفر کرتا ہے اور صدارتی نقل و حرکت کی نگرانی کرتا ہے،اس معاملے میں بھی صحافیوں کو یہ یقین دلایا گیا کہ وہ صدر کے ساتھ اسی طیارے میں موجود ہیں، حالانکہ ٹرمپ ایک مختلف فوجی طیارے کے ذریعے پہلے ہی روانہ ہو چکے تھے
ایرانی خطرے کے تناظر میں صدر کی نقل و حرکت کو اس سطح پر خفیہ رکھنا امریکی صدارتی سلامتی کے معمول کے طریقہ کار سے ایک نمایاں انحراف سمجھا جا رہا ہے،اس واقعے نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ صدر کی حفاظت کے لیے معلومات کو کس حد تک محدود کیا گیا اور وائٹ ہاؤس نے عوامی سطح پر صدر کی موجودگی کے بارے میں مختلف تاثر کیوں قائم رکھا

مزید پڑھیں