Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانماہرین کا انتباہ، پاکستان کی آبادی سے متعلق پالیسیاں زمینی حقائق سے...

ٹرینڈنگ

ماہرین کا انتباہ، پاکستان کی آبادی سے متعلق پالیسیاں زمینی حقائق سے پیچھے رہ گئیں

ماہرین کا انتباہ، پاکستان کی آبادی سے متعلق پالیسیاں زمینی حقائق سے پیچھے رہ گئیں

اسلام آباد: ماہرینِ صحت، پالیسی سازوں اور محققین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ آبادی کی اوسط عمر صرف 19 سال ہے، اس لیے ملک کو آبادی سے متعلق قلیل مدتی اقدامات کے بجائے طویل المدتی اور شواہد پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔
اسلام آباد میں پائیدار ترقی پالیسی ادارے کے زیر اہتمام ’’پاکستان میں آبادی میں اضافہ اور پالیسی میں ہم آہنگی‘‘ کے موضوع پر سیمینار ہوا، جس میں ماہرین نے آبادی، صحت، تعلیم، معیشت اور حکومتی منصوبہ بندی کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے بتایا کہ پاکستان میں اندازاً 48 فیصد حمل غیر مطلوب ہوتے ہیں اور سالانہ تقریباً 3 لاکھ 80 ہزار اسقاطِ حمل ہوتے ہیں، جن میں بعض غیر محفوظ طریقوں سے کیے جانے کے باعث خواتین کو شدید پیچیدگیوں اور انفیکشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ تقریباً 7 لاکھ مردہ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ تعداد ہے، جبکہ ہر ایک ہزار بچوں میں سے تقریباً 42 بچے پیدائش کے پہلے ماہ ہی انتقال کر جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ہر 100 میں سے تقریباً 20 جوڑوں کو خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات پوری طرح میسر نہیں، جس کی بنیادی وجہ وسائل اور سہولیات کی کمی ہے، نہ کہ صرف عوامی مزاحمت۔ ماہرین نے زور دیا کہ آبادی کے مسئلے کو محض صحت کے شعبے تک محدود کرنے کے بجائے تعلیم، روزگار، غذائیت اور معاشی منصوبہ بندی کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے۔
ڈاکٹر شہزاد علی خان نے کہا کہ ماؤں کی صحت، غذائیت اور بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفے پر توجہ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں صرف 33 فیصد مائیں بچوں کو دودھ پلاتی ہیں، جبکہ دودھ نہ پینے والے بچوں میں اسہال سے موت کا خطرہ 11 گنا اور نمونیا سے موت کا خطرہ 5 گنا زیادہ ہوتا ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز کی رابعہ ظفر نے کہا کہ آبادی کے بڑھتے ہوئے حجم کے مقابلے میں طویل مدتی مالی وسائل، صوبائی سطح پر رابطے اور عملی اقدامات میں نمایاں کمزوریاں موجود ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وقتی منصوبہ بندی کے بجائے مستقبل کے آبادیاتی اندازوں کو مدنظر رکھتے ہوئے باقاعدہ حکمت عملی تیار کی جائے۔
اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ سے وابستہ فرح اشرف نے کہا کہ مختلف سرکاری اداروں کے درمیان رابطے کی کمی پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کے مطابق وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مربوط اعداد و شمار، مشترکہ منصوبہ بندی اور قومی بجٹ کو آبادی کے طویل مدتی رجحانات سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔
پائیدار ترقی پالیسی ادارے کے ڈاکٹر شفقت منیر نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت تولیدی عمر کی خواتین کی تعداد تقریباً 5 کروڑ 70 لاکھ ہے جو 2050 تک 10 کروڑ سے تجاوز کرسکتی ہے۔ اسی عرصے میں کام کرنے کی عمر کی آبادی بھی موجودہ تقریباً 16 کروڑ 40 لاکھ سے بڑھ کر 29 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
ماہرین نے کہا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ پالیسیوں کی کمی نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد کے لیے طویل مدتی مالی وسائل، مختلف علاقوں تک یکساں سہولیات کی رسائی اور سرکاری اداروں کے درمیان کمزور رابطہ ہے۔
سیمینار کے اختتام پر ماہرین نے زور دیا کہ پاکستان کو اب محض پالیسیوں اور مذاکرات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کو ملک کی ترقی کے لیے ایک مؤثر انسانی وسائل میں تبدیل کیا جاسکے۔

مزید پڑھیں