میڈیکل کالجوں میں خالی نشستوں پر وزیر صحت کے ریمارکس نے سوالات کھڑے کردیے
میڈیکل کالجوں میں خالی نشستوں پر وزیر صحت کے ریمارکس نے سوالات کھڑے کردیے
اسلام آباد: پاکستان میں نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں بڑی تعداد میں خالی نشستوں کے معاملے پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے ایک ماہ کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کمیٹی کے اجلاس میں کہا کہ سالانہ 35 لاکھ روپے فیس لینے والے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں کوئی نشست خالی نہیں، جبکہ 18 لاکھ روپے سالانہ فیس لینے والے کالجوں میں متعدد نشستیں خالی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر زیادہ فیس خالی نشستوں کی بنیادی وجہ ہے تو پھر زیادہ فیس لینے والے اداروں میں نشستیں خالی کیوں نہیں ہیں؟
اجلاس میں خالی نشستوں کے باوجود میرٹ کم کرنے اور میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز داخلہ ٹیسٹ کے کامیابی کے لیے مقررہ نمبر مزید کم کرکے 50 فیصد کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے یہ تجویز بھی زیرِ بحث لائی کہ امتحان میں مشکل سوالات کا تناسب کم کیا جائے۔
قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ خالی نشستوں والے نجی میڈیکل کالجوں کا معائنہ کیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ نشستیں خالی رہنے کی اصل وجوہات کیا ہیں۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ جن اداروں میں تعلیمی معیار مطلوبہ سطح پر نہ ہو یا مسلسل بڑی تعداد میں نشستیں خالی رہیں، ان کے منظور شدہ نشستوں کی تعداد پر بھی نظرثانی کی جاسکتی ہے۔
اجلاس میں داخلہ ٹیسٹ کے لیے موجودہ 60 فیصد کامیابی کی شرط پر بھی غور ہوا۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ داخلوں میں آسانی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی معیار کو بھی برقرار رکھنا ضروری ہے، کیونکہ کم تعلیمی معیار کے حامل طلبہ کو میڈیکل تعلیم کے اگلے مراحل مکمل کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے کمیٹی کو بتایا کہ 2026 کا ایم ڈی کیٹ اب 20 ستمبر 2026 کو منعقد ہوگا۔ امتحان کو شفاف، محفوظ اور منظم انداز میں کرانے کے لیے تاریخ تبدیل کی گئی ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ 61 میڈیکل کالجوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 35 ادارے مقررہ معیار پر پورے اترے۔ کمیٹی نے ان اداروں کی فیس کے تعین کی وجوہات، فیس کی جانچ پڑتال اور آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے بھی طلب کرلیے۔
کمیٹی نے ان اداروں کی صورتحال بھی طلب کی جو مقررہ معیار پر پورے نہیں اترے لیکن اس کے باوجود زیادہ فیس وصول کررہے ہیں اور اپنی ویب سائٹس پر فیس کی تفصیلات ظاہر کررہے ہیں۔
اجلاس میں بی ڈی ایس پروگرام کی مدت چار سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز بھی زیرِ بحث آئی، جس کا مقصد پروگرام کو عالمی تعلیمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔
دریں اثنا وزارتِ صحت میں شیخ زاید انسٹی ٹیوٹ اور چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی ہوئے، جس کے تحت شیخ زاید اسپتال لاہور میں بچوں کے لیے 10 بستروں پر مشتمل جدید ہنگامی طبی یونٹ قائم کیا جائے گا


