مشہور امریکی ریپر ٹوپیک شکور کے قتل کا مقدمہ 30 سال بعد شروع
مشہور امریکی ریپر ٹوپیک شکور کے قتل کا مقدمہ 30 سال بعد شروع
امریکی ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں مشہور ریپر ٹوپیک شکور کے قتل کا مقدمہ تقریباً 30 سال بعد شروع ہوگیا۔ مقدمے میں سابق گینگ رہنما ڈوین ’کیفے ڈی‘ ڈیوس پر ٹوپیک کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ مقدمے کی کارروائی پیر سے جیوری کے انتخاب کے ساتھ شروع ہوئی۔
استغاثہ کا مؤقف ہے کہ 63 سالہ ڈوین ڈیوس نے ٹوپیک شکور کے قتل کا حکم دیا اور وہ پستول فراہم کی جس سے 7 ستمبر 1996 کو لاس ویگاس میں گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ میں ٹوپیک شدید زخمی ہوئے اور چھ روز بعد 25 سال کی عمر میں دم توڑ گئے۔
یہ قتل امریکی موسیقی کی تاریخ کے مشہور ترین حل طلب مقدمات میں شمار ہوتا رہا ہے۔ ٹوپیک اُس وقت مشرقی اور مغربی امریکی ہپ ہاپ گروہوں کے درمیان جاری شدید رقابت کے دوران نمایاں ترین فنکاروں میں شامل تھے۔
استغاثہ کے مطابق ٹوپیک اور میوزک پروڈیوسر سوج نائٹ نے قتل سے چند گھنٹے قبل لاس ویگاس کے ایم جی ایم گرینڈ جوئے خانے میں ڈوین ڈیوس کے بھتیجے اور گینگ رکن اورلینڈو ’بیبی لین‘ اینڈرسن کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ بعد ازاں ایک سفید کیڈیلک ٹوپیک کی گاڑی کے قریب پہنچی اور اس میں سے فائرنگ کی گئی۔
مقدمے میں ایک اہم ثبوت ڈوین ڈیوس کی 2019 میں شائع ہونے والی یادداشتیں بھی ہیں، جن میں اس نے بتایا تھا کہ وہ فائرنگ کے وقت کیڈیلک کی اگلی نشست پر موجود تھا اور اس نے پستول گاڑی میں موجود افراد کو دی تھی۔ تاہم اس نے یہ نہیں بتایا کہ ٹوپیک پر گولیاں کس شخص نے چلائیں۔ اس گاڑی میں موجود دیگر افراد اب وفات پا چکے ہیں۔
ڈیوس نے بعد میں اپنے سابق بیانات سے اختلاف کرتے ہوئے جرم سے انکار کردیا۔ اس کا کہنا ہے کہ قتل کی رات وہ لاس اینجلس میں تھا اور اس نے اپنی یادداشتوں میں موجود تفصیلات خود تحریر نہیں کی تھیں۔ وہ عدالت میں بھی بے گناہی کا مؤقف اختیار کرچکا ہے۔
استغاثہ کے مطابق جرم ثابت ہونے کی صورت میں ڈوین ڈیوس کو بغیر پیرول کے عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ مقدمے کی کارروائی تقریباً ایک ماہ جاری رہنے کی توقع ہے، تاہم مقدمے کے دوران یہ بات حتمی طور پر سامنے آنا ضروری نہیں کہ ٹوپیک پر گولی چلانے والا شخص کون تھا۔
تقریباً تین دہائیوں بعد شروع ہونے والا یہ مقدمہ ٹوپیک شکور کے مداحوں اور خاندان کے لیے اس طویل عرصے سے جاری سوال کا جواب تلاش کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جارہا ہے کہ 1996 میں اس معروف ریپر کو کس نے اور کیوں قتل کیا


