Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبریکنگ نیوزبرابر شہری: قائداعظم کے تصورِ مساوی شہریت پر عمل درآمد کا مطالبہ

ٹرینڈنگ

برابر شہری: قائداعظم کے تصورِ مساوی شہریت پر عمل درآمد کا مطالبہ

برابر شہری: قائداعظم کے تصورِ مساوی شہریت پر عمل درآمد کا مطالبہ

کراچی: 11 اگست پاکستان کی تاریخ میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ 1947 میں اسی روز قائداعظم محمد علی جناح نے دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے نئی ریاست میں شہریت کے بنیادی تصور کو واضح کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہر شہری کو اپنے مذہب کے مطابق عبادت گاہ جانے کی آزادی ہونی چاہیے اور مذہب، ذات یا عقیدے کی بنیاد پر شہریوں کے ساتھ امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔
قائداعظم نے تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق، مراعات اور ذمہ داریوں پر زور دیتے ہوئے قانون کی بالادستی، جان و مال کے تحفظ اور مذہبی آزادی کو ریاست کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا تھا۔
اسی تصور کو اجاگر کرنے کے لیے اقلیتی حقوق کے کارکن آج کراچی میں مزارِ قائد کے باہر مارچ کر رہے ہیں۔ مارچ کے منتظمین نے 11 مطالبات پیش کیے ہیں، جن میں جبری تبدیلیٔ مذہب کے خلاف مؤثر تحفظ، توہینِ مذہب کے قوانین کے غلط استعمال کی روک تھام، سیاسی نمائندگی میں اضافہ، نصابی کتب سے امتیازی مواد کا خاتمہ، اقلیتوں کی املاک اور عبادت گاہوں کا تحفظ اور تعلیم و روزگار کے بہتر مواقع شامل ہیں۔
منتظمین نے آئینی ترامیم کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ غیر مسلم شہریوں کو صدر اور وزیراعظم کے عہدوں کے لیے اہل قرار دیا جا سکے۔ اداریے کے مطابق ان مطالبات میں سے ہر ایک پر اتفاقِ رائے ضروری نہیں، تاہم یہ اصول کہ شہریوں کے حقوق ان کے مذہب کی بنیاد پر مختلف نہیں ہونے چاہییں، ایک بنیادی جمہوری اصول ہے۔
اداریے میں کہا گیا ہے کہ مذہبی اقلیتیں آج بھی ہجوم کے تشدد، عبادت گاہوں پر حملوں، جبری تبدیلیٔ مذہب اور سماجی و معاشی محرومی جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ بعض مواقع پر مذہب کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین کو جھوٹے الزامات کے ذریعے بھی استعمال کیا گیا ہے۔
تحریر میں زور دیا گیا ہے کہ قومی اقلیتی حقوق کا دن محض ایک رسمی تقریب تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ریاست کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ قانون، حکومتی پالیسی اور معاشرتی رویے قائداعظم کے 11 اگست 1947 کے مساوی شہریت کے تصور پر کس حد تک پورا اترتے ہیں۔
اداریے کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ پاکستان میں مساوی شہریت صرف تقریروں اور وعدوں سے نہیں بلکہ ہر شہری کو بلاامتیاز عزت، تحفظ اور سیاسی وابستگی کا یکساں حق دینے سے عملی طور پر ثابت ہوگی۔

مزید پڑھیں