Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبھارتبھارت میں نوجوانوں کی احتجاجی تحریک، سیاسی تبدیلی کے امکانات پر بحث...

ٹرینڈنگ

بھارت میں نوجوانوں کی احتجاجی تحریک، سیاسی تبدیلی کے امکانات پر بحث تیز

بھارت میں نوجوانوں کی احتجاجی تحریک، سیاسی تبدیلی کے امکانات پر بحث تیز

بھارت میں حالیہ نوجوانوں کے احتجاج نے ملک کی سیاست میں تبدیلی کے امکانات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تجزیہ کار جاوید نقوی کے مطابق احتجاج میں شریک بہت سے نوجوان ایسے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو طویل عرصے سے بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیراعظم نریندر مودی کے حامی رہے ہیں۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ سیاسی نظریات ہمیشہ خاندانی سیاسی وابستگیوں کے مطابق نہیں چلتے۔ بعض نوجوان اپنے خاندان کی روایتی سیاسی سوچ سے الگ ہو کر ترقی پسند یا بائیں بازو کی سیاست کی طرف آتے ہیں، جبکہ بعض اوقات اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔
مضمون کے مطابق حالیہ احتجاج میں نوجوانوں نے سخت پولیس کارروائی کے باوجود حکومت کے خلاف آواز بلند کی، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ احتجاج میں شامل اکثریت نے اپنی سماجی اور سیاسی پس منظر سے مکمل طور پر فاصلہ اختیار کرلیا ہے۔
تحریر میں اروند کیجریوال کی سیاست اور عام آدمی پارٹی کی مثال بھی دی گئی ہے۔ مصنف کے مطابق کیجریوال نے ایک مرحلے پر دہلی میں بی جے پی کی سیاسی پیش قدمی روکی، لیکن بعد میں ان کی سیاست میں مذہبی رجحانات نمایاں ہونے لگے۔
مضمون میں بھارت کی سابقہ عوامی تحریکوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، خصوصاً کسانوں کی وہ طویل تحریک جس کے نتیجے میں مودی حکومت کو متنازع زرعی قوانین واپس لینے پڑے تھے۔ مصنف کے مطابق یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ منظم عوامی دباؤ حکومتوں کو اپنے فیصلے تبدیل کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔
جاوید نقوی نے برصغیر کے کئی معروف ترقی پسند دانشوروں کی سیاسی اور فکری تبدیلیوں کا بھی ذکر کیا ہے، جن میں فیض احمد فیض، مجروح سلطانپوری، کیفی اعظمی اور دیگر شخصیات شامل ہیں۔
مضمون کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ نوجوان نسل کسی بھی سیاسی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے، لیکن اس کی سیاسی سمت مستقل طور پر ایک جیسی نہیں رہتی۔ موجودہ احتجاج مستقبل میں کس قسم کی سیاسی تحریک میں تبدیل ہوگا، اس کا انحصار نوجوانوں کی تنظیم، مطالبات اور مسلسل سیاسی وابستگی پر ہوگا۔

مزید پڑھیں