Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستاندھوپ اوپر، آگ نیچے؛ پاکستان کے بھٹہ مزدور شدید گرمی میں بھی...

ٹرینڈنگ

دھوپ اوپر، آگ نیچے؛ پاکستان کے بھٹہ مزدور شدید گرمی میں بھی کام کرنے پر مجبور

دھوپ اوپر، آگ نیچے؛ پاکستان کے بھٹہ مزدور شدید گرمی میں بھی کام کرنے پر مجبور

شیخوپورہ: پاکستان کے اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے مزدور شدید گرمی اور بھٹوں کی تپش کے درمیان اپنی روزی کمانے پر مجبور ہیں۔ شیخوپورہ کے ایک بھٹے میں مزدور ایک طرف 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ گرمی برداشت کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب ان کے قدموں کے نیچے بھٹیوں میں آگ دہک رہی ہوتی ہے۔ روایتی بھٹوں کا درجہ حرارت ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔
مزدور عبدالحسین کے مطابق گرمی انتہائی شدید ہے، لیکن گھریلو اخراجات اور مالی مشکلات کے باعث کام چھوڑنے کا کوئی راستہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بیماری یا گھریلو مسئلہ ہونے کے باوجود کام سے چھٹی کرنا بھی مشکل ہے کیونکہ آمدنی رکنے سے گھر کے اخراجات پورے نہیں ہو پاتے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 18 ہزار سے زائد اینٹوں کے بھٹے ہیں جہاں 10 لاکھ سے زیادہ افراد روزگار سے وابستہ ہیں۔ مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ کئی کارکن پیشگی رقم لینے کے بعد قرض کے ایسے چکر میں پھنس جاتے ہیں جس سے ان کے لیے خطرناک حالات میں بھی کام سے انکار کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ایک مزدور نے بتایا کہ اسے تقریباً 25 ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں، جو گھر کا کرایہ اور بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی ہیں۔
ماہرین کے مطابق شدید گرمی میں طویل عرصے تک بھٹوں پر کام کرنے سے مزدوروں کو جلد کی بیماریوں، سانس کے مسائل اور گردوں کی بیماریوں سمیت مختلف طبی مشکلات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک تحقیقی مطالعے میں بھی پاکستان کے اینٹوں کے بھٹوں کے مزدوروں میں جلدی مسائل، خشک کھانسی، کمر درد اور سانس کی تکلیف کی نشاندہی کی گئی ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے روایتی بھٹوں کو جدید زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جس سے فضائی آلودگی اور سانس کی بیماریوں کے خطرات کم ہونے کی امید ہے۔ تاہم مزدوروں کے لیے شدید گرمی سے فوری تحفظ اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
بھٹے کے ایک کارکن محمد عظیم نے حالات کی عکاسی کرتے ہوئے کہا کہ موسم اچھا ہو یا خراب، کام تو کام ہے، اسے کرنا ہی پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں