Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہامریکہ کے بہترین کالجوں کی نئی فہرست نے سب کو حیران کر...

ٹرینڈنگ

امریکہ کے بہترین کالجوں کی نئی فہرست نے سب کو حیران کر دیا، ہارورڈ اور کولمبیا نہیں، کامیاب کیریئر دینے والے ادارے بازی لے گئے

امریکہ کے بہترین کالجوں کی نئی فہرست نے سب کو حیران کر دیا، ہارورڈ اور کولمبیا نہیں، کامیاب کیریئر دینے والے ادارے بازی لے گئے

امریکہ کے بہترین کالجوں کی درجہ بندی میں ایک اہم تبدیلی سامنے آئی ہے،نئی فہرست نے یونیورسٹیوں کی روایتی شہرت، داخلے کی مشکل یا مالی وسائل کے بجائے اس سوال کو بنیادی معیار بنایا ہے کہ وہاں سے تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ عملی زندگی میں کتنی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

لنکڈ اِن کی 2026 کی نئی درجہ بندی میں امریکہ کے 50 ایسے کالج اور جامعات شامل کیے گئے ہیں جو اپنے فارغ التحصیل طلبہ کو بہتر روزگار اور کامیاب پیشہ ورانہ زندگی کے لیے سب سے زیادہ تیار کرتے ہیں۔ اس درجہ بندی میں طلبہ کی انٹرن شپ، ملازمت حاصل کرنے کی شرح، پیشہ ورانہ روابط، سابق طلبہ کے نیٹ ورک اور تعلیم کے بعد کیریئر کی پیش رفت جیسے عوامل کو دیکھا گیا ہے
اس فہرست کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے دس بڑے اسکولز میں آج بھی 1. پرنسٹن یونیورسٹی

  1. ڈیوک یونیورسٹی
  2. ہارورڈ یونیورسٹی
  3. میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی
  4. ڈارٹ ماؤتھ کالج
  5. یونیورسٹی آف پنسلوانیا
  6. یونیورسٹی آف نوٹر ڈیم
  7. کارنیل یونیورسٹی
  8. ییل یونیورسٹی
  9. اسٹینفورڈ یونیورسٹی

شامل ہیں مگر 23 ویں نمبر آنے والی لی ہائی یونیورسٹی جیسے ادارے نے ایسی جامعات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا جنہیں عام طور پر امریکی اعلیٰ تعلیم کی اشرافیہ میں شمار کیا جاتا ہے،پنسلوانیا میں واقع لی ہائی ایک انتہائی منتخب ادارہ ہے اور اس کے پاس تقریباً 2 ارب ڈالر کا مالیاتی اثاثہ موجود ہے، لیکن روایتی کالج درجہ بندیوں میں اسے عموماً شکاگو یونیورسٹی یا کولمبیا یونیورسٹی جیسا مقام حاصل نہیں ہوتا
لنکڈ اِن کی نئی فہرست میں صورتحال مختلف نظر آتی ہے،یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ یونیورسٹی کتنی مشہور ہے بلکہ یہ ہے کہ اس کے طلبہ گریجویشن کے بعد کہاں پہنچتے ہیں
لی ہائی یونیورسٹی کے تقریباً 88 فیصد طلبہ اپنی تعلیم کے دوران انٹرن شپ مکمل کرتے ہیں، جبکہ اس کے تقریباً 89 ہزار سابق طلبہ پر مشتمل ایک فعال پیشہ ورانہ نیٹ ورک موجود ہے،یونیورسٹی کے پرووسٹ نیتھن اربن کے مطابق ادارے کی توجہ طویل عرصے سے طلبہ کے عملی نتائج پر رہی ہے،یعنی یہ دیکھنا کہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد انہیں اچھی ملازمت ملتی ہے یا نہیں اور 10 سال بعد ان کا کیریئر کہاں کھڑا ہوتا ہے
یہ نقطہ نظر امریکی اعلیٰ تعلیم کے بدلتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے،برسوں سے کالجوں کی درجہ بندی میں بڑے مالیاتی اثاثے، کم داخلہ شرح اور ادارے کی مجموعی شہرت کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی رہی ہے،اب ایک نیا سوال زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے،اس یونیورسٹی کی ڈگری لینے کے بعد طالب علم کی زندگی واقعی کتنی بہتر ہوتی ہے؟
امریکہ میں کالج کی تعلیم انتہائی مہنگی ہو چکی ہے اور بہت سے خاندان لاکھوں ڈالر خرچ کرکے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ان کے بچوں کے لیے کون سا ادارہ بہتر ہوگا،ایسے میں ملازمت، انٹرن شپ اور مضبوط پیشہ ورانہ روابط جیسے نتائج محض اعداد و شمار نہیں بلکہ خاندانوں کے لیے براہِ راست مالی اہمیت رکھتے ہیں
اسی لیے لنکڈ اِن کی یہ درجہ بندی امریکی اعلیٰ تعلیم کے روایتی تصور کو ایک نیا چیلنج دے رہی ہے،ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں والدین اور طلبہ صرف یہ نہ پوچھیں کہ ’’کون سا کالج سب سے زیادہ مشہور ہے؟‘‘ بلکہ یہ پوچھیں کہ کون سا کالج میرے بچے کو سب سے کامیاب مستقبل دے سکتا ہے؟
اور یہی تبدیلی امریکہ کے کالجوں کی اگلی بڑی دوڑ کا فیصلہ کر سکتی ہے

مزید پڑھیں