دہشت گردی کے خلاف جنگ: کارروائیاں بڑھنے کے باوجود تشدد کیوں نہیں رک رہا؟
دہشت گردی کے خلاف جنگ: کارروائیاں بڑھنے کے باوجود تشدد کیوں نہیں رک رہا؟
پاکستان میں سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہی ہیں، لیکن ان کارروائیوں کے باوجود ملک میں دہشت گرد حملوں میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سیکیورٹی تجزیہ کار محمد عامر رانا کے مطابق مسئلہ صرف دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کی کمی نہیں بلکہ ایک ایسی مربوط حکمتِ عملی کا فقدان ہے جو فوجی کامیابیوں کو مستقل امن میں تبدیل کر سکے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی تعداد رواں سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں صورتحال خاص طور پر تشویشناک رہی۔ سوات میں کبل پولیس اسٹیشن کے باہر خودکش حملے میں پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں سمیت 17 افراد جاں بحق ہوئے۔
پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف 26 کارروائیاں کی گئیں، جبکہ جون میں یہ تعداد 24 تھی۔ ان کارروائیوں میں 205 دہشت گرد مارے گئے، جن میں 18 کارروائیاں بلوچستان اور 8 خیبر پختونخوا میں ہوئیں۔ صرف کوئٹہ اور اس کے گردونواح میں چھ کارروائیوں کے دوران 68 شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی۔
تاہم مضمون میں ایک اہم سوال اٹھایا گیا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں دہشت گردوں کی ہلاکت کے باوجود صرف پانچ مشتبہ دہشت گرد گرفتار کیوں ہوئے؟ تجزیہ کار کے مطابق گرفتاریوں کے ذریعے سہولت کاروں، مالی معاونین، بھرتی کرنے والوں اور رابطہ نیٹ ورک تک پہنچا جا سکتا ہے، جبکہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں سے یہ معلومات حاصل نہیں کی جا سکتیں۔
رپورٹ کے مطابق دہشت گرد خودکش حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور پولیس و سیکیورٹی تنصیبات پر حملوں کے ساتھ ساتھ ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کے ذریعے دھماکہ خیز حملوں کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں۔ ان کا مقصد صرف جانی نقصان نہیں بلکہ ریاستی اختیار کو کمزور کرنا، عوام میں خوف پیدا کرنا اور روزمرہ حکومتی نظام کو متاثر کرنا ہے۔
بلوچستان میں جولائی کے دوران مستونگ، لسبیلہ، زیارت، کیچ اور خضدار سمیت مختلف علاقوں میں مربوط حملے ہوئے۔ تجزیے کے مطابق وسیع رقبہ، دشوار گزار جغرافیہ، محدود انتظامی موجودگی اور کمزور عوامی خدمات دہشت گرد گروہوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
مضمون میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ سیاسی محرومی، معاشی مشکلات، روزگار کے محدود مواقع اور ریاستی اداروں پر عدم اعتماد جیسے عوامل دہشت گردوں کو نوجوانوں اور مقامی آبادی میں اپنا اثر بڑھانے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کار کے مطابق کسی علاقے کو دہشت گردوں سے خالی کرا لینا اور اسے مستقل طور پر محفوظ بنانا دو مختلف چیزیں ہیں۔ فوجی کارروائی کے بعد اگر مؤثر پولیسنگ، مقامی انتظامیہ، بنیادی سہولیات، سیاسی شمولیت اور روزگار کے مواقع فراہم نہ کیے جائیں تو دہشت گرد دوبارہ اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔
مضمون کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف فوجی کارروائی، مؤثر پولیسنگ، بہتر طرزِ حکمرانی، سیاسی شمولیت، علاقائی سفارت کاری اور مقامی آبادی کے اعتماد کو ایک مشترکہ حکمتِ عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔ بصورتِ دیگر ریاست ایک ہی علاقے کو بار بار دہشت گردوں سے پاک کرتی رہے گی اور دہشت گرد دوبارہ وہاں واپس آتے رہیں گے۔


