ُتلُسی گائبرڈ کے سیاسی عروج کے پیچھے کون تھا؟ پیٹر فریڈرک کی تحقیق نے بھارت کے ہندو قوم پرست نیٹ ورک پر سوال اٹھا دیے
ُتلُسی گائبرڈ کے سیاسی عروج کے پیچھے کون تھا؟ پیٹر فریڈرک کی تحقیق نے بھارت کے ہندو قوم پرست نیٹ ورک پر سوال اٹھا دیے
تلُسی گابَرڈ کا انٹیلی جنس تک سفر، بھارت کی ہندو قوم پرست تنظیم سے روابط پر سنگین الزامات
تُلسی گابَرڈ نے امریکہ کی قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر کی حیثیت سے تقریباً 15 ماہ تک ملک کی تقریباً تمام بڑی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی نگرانی کی، مگر ان کے سیاسی سفر کے آغاز، مالی معاونت اور بھارت کی ہندو قوم پرست تحریک سے ان کے روابط اب ایک بار پھر شدید سوالات کی زد میں ہیں
یہ سوالات ایک ایسے صحافی کی طویل تحقیق سے سامنے آئے ہیں جو برسوں سے امریکہ میں بھارتی ہندو قوم پرست نیٹ ورک، اس کے سیاسی اثرورسوخ اور امریکی سیاست دانوں سے اس کے روابط پر کام کر رہے ہیں اور ان کا نام پیٹر فریڈرک ہے
فریڈرک ایک آزاد تحقیقی صحافی اور جنوبی ایشیائی امور کے تجزیہ کار ہیں ،وہ بھارت کی ہندو قوم پرستی، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، یعنی آر ایس ایس، اور امریکہ میں اس سے وابستہ تنظیموں کے سیاسی اثرورسوخ پر متعدد تحقیقی رپورٹس اور کتابیں لکھ چکے ہیں،ان کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق ان کی تحریریں دی کارواں، مڈل ایسٹ آئی، دی وائر، دی کوئنٹ اور واشنگٹن رپورٹ آن مڈل ایسٹ افیئرز سمیت مختلف اداروں میں شائع ہوئی ہیں، جبکہ ان کی تحقیق کو واشنگٹن پوسٹ اور دیگر بڑے ذرائع ابلاغ نے بھی حوالہ دیا ہے
گابَرڈ کے معاملے میں فریڈرک کی تحقیق نئی نہیں،اگست 2019 میں انہوں نے دی کارواں میں ایک تفصیلی تحقیق شائع کی تھی جس کا عنوان تھا ’’آل اِن دی فیملی: دی امریکن سنگھز افیئر وِد تُلسی گابَرڈ‘‘،اس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ گابَرڈ کے ابتدائی سیاسی سفر میں امریکہ میں آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں اور شخصیات کے اہم کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا
فریڈرک کی تحقیق میں بھارت بارائی، رامیش بھوٹاڈا اور مہیر میگھانی جیسے نام سامنے آتے ہیں،ان کے مطابق یہ اور دیگر افراد امریکی ہندو قوم پرست حلقوں سے وابستہ رہے اور گابَرڈ کی سیاسی مہمات کو مالی معاونت بھی فراہم کرتے رہے،دی کارواں کی 2019 کی رپورٹ میں بارائی کی گابَرڈ کو دی جانے والی انتخابی معاونت اور امریکی ہندو قوم پرست حلقوں کے ساتھ ان کے روابط کی تفصیلات بھی شامل تھیں
پیٹر فریڈرک نے بعد میں بھی گابَرڈ کے معاملے پر مسلسل کام جاری رکھا۔ جنوری 2025 میں ان کی نامزدگی بطور ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس سامنے آنے کے بعد فریڈرک نے اپنی ایک تحریر میں کہا کہ وہ واشنگٹن میں 25 سینیٹ دفاتر گئے اور قومی سلامتی اور انٹیلی جنس سے متعلق عملے کے ارکان سے گابَرڈ کے مبینہ ہندوتوا روابط پر بات کی،ان کے مطابق انہوں نے سینیٹروں کے سامنے یہ مؤقف رکھا کہ گابَرڈ کے قومی سیاسی کیریئر کی بنیاد امریکی ہندو قوم پرست تحریک سے وابستہ حلقوں کی حمایت پر قائم ہوئی تھی
ان کی اسی تحقیق میں 2015 میں آر ایس ایس کے ترجمان رام مادھو کا گابَرڈ کی شادی میں شرکت کرنا بھی اہم واقعے کے طور پر سامنے آتا ہے۔ فریڈرک کے مطابق مادھو نے اس موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے گابَرڈ کو تحفہ بھی دیا تھا
فریڈرک کے مطابق گابَرڈ کی قومی انٹیلی جنس کی سربراہ کے طور پر نامزدگی کے بعد بھی ان کے بھارتی ہندو قوم پرست حلقوں سے روابط ختم نہیں ہوئے،انہوں نے دسمبر 2024 میں نیو جرسی کے ایک مندر میں گابَرڈ کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں وہ بھارت سے وابستہ اہم شخصیات، جن میں بھارت بارائی اور ہندو امریکن فاؤنڈیشن کی سہاگ شکلا شامل تھیں، کے ساتھ نظر آئیں
فریڈرک نے اب اپنے فراہم کردہ بیان میں کہا ہے کہ وہ اس پورے ریکارڈ کو ایک فلم کی صورت میں سامنے لا رہے ہیں،ان کے بیان کے مطابق اس میں گابَرڈ کے سیاسی سفر کو مالی معاونت فراہم کرنے والے افراد، بھارت کے ہندو قوم پرست نیٹ ورک سے ان کے روابط، رام مادھو کی ان کی شادی میں شرکت اور 2025 میں ان کی سینیٹ توثیق سے قبل ہونے والی سرگرمیوں کو شامل کیا گیا ہے
تاہم اس فلم کے بارے میں دستیاب معلومات میں ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ کسی مکمل ریلیز شدہ دستاویزی فلم کا باضابطہ عنوان ہے یا فریڈرک اپنی موجودہ تحقیقی کاوش کو فلم کے طور پر پیش کرنے کی بات کر رہے ہیں،اس لیے اس مرحلے پر اسے ’’فریڈرک کی جانب سے پیش کی جانے والی فلم‘‘ کہنا زیادہ محتاط اور درست ہوگا، نہ کہ یہ دعویٰ کرنا کہ فلم باقاعدہ طور پر ریلیز ہو چکی ہے۔
اسی معاملے میں ایک دوسری اور نہایت اہم تحقیق جون 2026 میں واشنگٹن پوسٹ کے تحقیقاتی صحافی جون سوین نے شائع کی۔ سوین نے گابَرڈ کے سیاسی سفر سے متعلق 25,000 سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات حاصل کیں، جن میں 2011 سے 2017 تک کے سینکڑوں یادداشت نما مراسلے شامل تھے،واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان دستاویزات میں گابَرڈ کے لیے قانون سازی، سیاسی پالیسی، ٹیلی وژن پر گفتگو اور بعض اوقات سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر بیانات تک کے بارے میں رہنمائی موجود تھی
سوین کی تحقیق کا رخ تاہم فریڈرک کی تحقیق سے مختلف تھا،واشنگٹن پوسٹ نے گابَرڈ کے بچپن کے روحانی رہنما کرس بٹلر اور سائنس آف آئیڈینٹی فاؤنڈیشن سے ان کے تعلقات کا جائزہ لیا،رپورٹ کے مطابق دستاویزات میں گابَرڈ کے سیاسی فیصلوں پر بٹلر کے حلقے کے ممکنہ اثرات کے شواہد تلاش کیے گئے،گابَرڈ کے دفتر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹا اور ان کے مذہبی عقیدے کے خلاف تعصب قرار دیا
یوں گابَرڈ کے سیاسی سفر پر دو الگ سمتوں سے سوال اٹھتے ہیں، پیٹر فریڈرک کی برسوں پر محیط تحقیق بھارت کے ہندو قوم پرست سیاسی نیٹ ورک اور گابَرڈ کے تعلقات پر مرکوز ہے، جبکہ جون سوین کی واشنگٹن پوسٹ تحقیق نے گابَرڈ کے روحانی حلقے اور ان کے سیاسی فیصلوں کے درمیان ممکنہ تعلق کا جائزہ لیا ہے
یہ تمام سوالات اس وقت مزید اہم ہو گئے جب گابَرڈ نے مئی 2026 میں قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دیا، جو 30 جون سے مؤثر ہوا،واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان کا 15 ماہ کا دور داخلی تنازعات اور وائٹ ہاؤس کے ساتھ اختلافات سے بھی متاثر رہا
اب اصل سوال یہ ہے کہ اگر گابَرڈ کے سیاسی سفر، مالی معاونت، بھارت کے ہندو قوم پرست حلقوں سے روابط اور ان کے سابق روحانی نیٹ ورک کے بارے میں اتنا وسیع مواد برسوں سے موجود تھا تو دنیا کی سب سے طاقتور انٹیلی جنس مشینری کی سربراہی سے پہلے ان تمام پہلوؤں کی مکمل اور باضابطہ جانچ کیوں نہیں کی گئی؟


