Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہسینیٹ پر قبضے کی جنگ میں ڈیموکریٹس کی واپسی، 35 نشستوں کا...

ٹرینڈنگ

سینیٹ پر قبضے کی جنگ میں ڈیموکریٹس کی واپسی، 35 نشستوں کا معرکہ ریپبلکن اکثریت کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گیا، اب جیوئش امریکن نہیں لاطینی ووٹ فیصلہ کن ہیں ؟

سینیٹ پر قبضے کی جنگ میں ڈیموکریٹس کی واپسی، 35 نشستوں کا معرکہ ریپبلکن اکثریت کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گیا، اب جیوئش امریکن نہیں لاطینی ووٹ فیصلہ کن ہیں ؟

امریکہ میں 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل سینیٹ کی جنگ غیر معمولی طور پر سخت ہوتی جا رہی ہے،اس مرتبہ 100 رکنی سینیٹ کی 35 نشستوں پر انتخاب ہوگا، جن میں 22 نشستیں اس وقت ریپبلکنز کے پاس ہیں جبکہ 13 ڈیموکریٹس کے پاس ہیں،ریپبلکن اس وقت 53 نشستوں کے ساتھ اکثریت میں ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس اور ان کے ساتھ وابستہ 2 آزاد ارکان مجموعی طور پر 47 نشستیں رکھتے ہیں
یوں ڈیموکریٹس کو سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کم از کم 4 ریپبلکن نشستیں چھیننا ہوں گی اور اپنی موجودہ تمام نشستیں برقرار بھی رکھنا ہوں گی
تازہ ترین سیاسی نقشہ یہ بتا رہا ہے کہ یہ کام مشکل ضرور ہے، مگر اب ناممکن نہیں رہا
کوک پولیٹیکل رپورٹ کی 28 جولائی کی درجہ بندی میں سینیٹ کے لیے مجموعی منظرنامہ 46 ڈیموکریٹک، 4 آزاد اور 50 ریپبلکن نشستوں کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوک یہ 50 نشستیں ریپبلکنز کے یقینی طور پر جیتنے کی پیش گوئی کر رہا ہے، بلکہ یہ موجودہ انتخابی درجہ بندی کا مجموعی نقشہ ہے۔ اصل مقابلہ ان چھ سے سات ریاستوں میں ہے جہاں معمولی تبدیلی پورے سینیٹ کا توازن بدل سکتی ہے
دوسری طرف تازہ قومی تجزیوں میں ڈیموکریٹس کے لیے شمالی کیرولائنا، مین اور اوہائیو کے ساتھ ٹیکساس ، آئیوا ، الاسکا ، مشیگن سمیت کم از کم سات نشستیں سب سے اہم سمجھی جا رہی ہیں دلچسپ بات یہ ہے ان نشستوں میں الاسکا، آئیووا اور ٹیکساس بھی اب ایسی ریاستیں نہیں رہیں جنہیں مکمل طور پر ریپبلکن کے محفوظ قلعے سمجھا جائے
سب سے نمایاں تبدیلی شمالی کیرولائنا میں ہے،سابق گورنر رائے کوپر ریپبلکن امیدوار مائیکل واٹلی کے خلاف نمایاں برتری حاصل کیے ہوئے ہیں،حالیہ سرویز میں کوپر کی برتری تقریباً 8 سے 9 پوائنٹس تک دیکھی گئی ہے، وال اسٹریٹ جنرل کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کے پاس انتخابی تجربے اور مالی وسائل میں بھی واضح برتری ہے
مین بھی ریپبلکنز کے لیے تشویش کا باعث بن چکا ہے،وہاں سوزن کولنز کی نشست ایک ایسی ریاست میں ہے جہاں ریاستی سطح پر ڈیموکریٹس کی بنیاد مضبوط ہے، اور موجودہ ماحول میں یہ مقابلہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنجیدہ ہو گیا ہے
اوہائیو میں سابق سینیٹر شیروڈ براؤن کی واپسی نے ریپبلکنز کے لیے ایک اور مشکل پیدا کی ہے،آئیووا بھی جونی ارنسٹ کی ریٹائرمنٹ کے بعد مقابلے میں آ گیا ہے، جبکہ مسیسیپی، کنساس اور نیبراسکا جیسے روایتی ریپبلکن علاقوں میں بھی ڈیموکریٹس نے اپنی نظریں گاڑ دی ہیں
لیکن اس پورے انتخابی نقشے میں ایک ایسا ووٹر گروپ ہے جس پر دونوں جماعتوں کی غیر معمولی توجہ ہے: ہسپانوی اور لاطینی ووٹر، جو ڈونالڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسوں کا سب سے بڑا ٹارگٹ بھی ہے
امریکہ میں 2024 کے اعداد کے مطابق تقریباً 64.7 ملین افراد نے خود کو ہسپانوی یا لاطینی بتایا، جو ملک کی آبادی کا تقریباً 19 فیصد ہیں،ریپبلکنز کے پاس 2024 میں اس ووٹ کا پہلے کے مقابلے میں بڑا حصہ گیا تھا، لیکن 2026 کے لیے تازہ سرویز بتا رہے ہیں کہ یہ ووٹر دوبارہ ڈیموکریٹس کی طرف حرکت کر سکتا ہے
یہ تبدیلی خاص طور پر ان ریپبلکن نشستوں میں اہم ہے جہاں لاطینی آبادی بہت بڑی ہے
ٹیکساس سب سے بڑا امتحان ہے
ٹیکساس کی تقریباً 39.7 فیصد آبادی ہسپانوی یا لاطینی ہے، جو ریاست کو پورے ملک کی سب سے بڑی لاطینی آبادی والی ریاستوں میں شامل کرتی ہے
یہی وجہ ہے کہ جیمز ٹلاریکو اور کین پیکسٹن کا سینیٹ مقابلہ صرف ایک امیدوار بمقابلہ دوسرے امیدوار کی جنگ نہیں بلکہ لاطینی ووٹر کے رجحان کا بھی امتحان بن چکا ہے
اپریل کے ٹیکساس پول میں ٹلاریکو نے پیکسٹن کے خلاف لاطینی ووٹروں میں 57 فیصد کے مقابلے میں 30 فیصد کی برتری حاصل کی تھی،بعد کے عمومی سرویز میں بھی ٹلاریکو کی مجموعی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔ جولائی کے ایک سروے میں وہ پیکسٹن سے 45 کے مقابلے میں 40 فیصد آگے تھے، جبکہ جولائی کے آخر میں ٹیکساس اے اینڈ ایم کے سروے میں ان کی برتری 47 کے مقابلے میں 43 فیصد تک پہنچ گئی
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ٹیکساس کے لاطینی ووٹر 2024 کی نسبت زیادہ تعداد میں ڈیموکریٹس کی طرف واپس آتے ہیں تو ریپبلکنز کے لیے یہ نشست بچانا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے
فلوریڈا بھی اہم ہے۔ ریاست کی تقریباً 27.4 فیصد آبادی ہسپانوی یا لاطینی ہے
لیکن فلوریڈا کا معاملہ ٹیکساس سے مختلف ہے۔ یہاں لاطینی ووٹر یکساں سیاسی گروپ نہیں،جنوبی فلوریڈا میں کیوبن نژاد ووٹروں کی سیاسی ترجیحات دوسرے لاطینی گروپوں سے مختلف رہی ہیں،اس لیے صرف لاطینی آبادی کا حجم دیکھ کر یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ ریاست لازماً ڈیموکریٹس کی طرف جائے گی، مگر ڈیموکریٹس کی توقعات بالکل بے معنی بھی قرار نہیں دی جاسکتیں کہ کب کہاں غصہ کتنا بڑھ جائے
ایریزونا میں بھی تقریباً 31.4 فیصد آبادی ہسپانوی یا لاطینی ہے، جبکہ نیواڈا میں یہ تناسب تقریباً 29.6 فیصد ہے
یہ دونوں ریاستیں 2026 کے سینیٹ نقشے میں براہ راست 2026 کی عام ریپبلکن نشستوں کی بنیادی فہرست کا حصہ نہیں ہیں، لیکن ان کی لاطینی آبادی اور 2024 کے بعد ووٹر رجحانات یہ دکھاتے ہیں کہ مغربی ریاستوں میں لاطینی ووٹ کس طرح امریکی سیاست کے توازن کو بدل رہا ہے
ریپبلکنز کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ قومی سطح پر بھی لاطینی ووٹرز میں کچھ واپسی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں،مئی کے ایک بڑے دو جماعتی سروے میں 2024 میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والے ہسپانوی ووٹروں میں سے تقریباً ایک چوتھائی نے کہا کہ اگر آج دوبارہ انتخاب ہو تو وہ اپنا ووٹ تبدیل کر سکتے ہیں،اسی سروے میں 76 فیصد ہسپانوی ووٹروں نے کہا کہ وہ نومبر میں ووٹ ڈالنے کے لیے یقینی یا تقریباً یقینی ہیں
یہاں ڈیموکریٹس کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا وہ اس ناراضگی کو حقیقی ووٹ میں تبدیل کر سکتے ہیں؟
کیونکہ صرف لاطینی آبادی کا بڑا ہونا کافی نہیں، ٹرن آؤٹ اصل فیصلہ کرے گا
اگر لاطینی ووٹرز بڑی تعداد میں نکلتے ہیں اور ان کا ووٹ ڈیموکریٹس کے حق میں 2024 کے مقابلے میں واپس جاتا ہے تو ٹیکساس جیسی ریاست میں سینیٹ کی نشست پلٹ سکتی ہے،اگر ٹرن آؤٹ کم رہا یا لاطینی ووٹرز دوبارہ ریپبلکن امیدواروں کے ساتھ گئے تو ڈیموکریٹس کی ساری انتخابی حکمت عملی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے
دوسری طرف ڈیموکریٹس کو بھی خطرہ ہے،انہیں اپنی موجودہ نشستیں، خاص طور پر مشی گن، جارجیا اور نیو ہیمپشائر جیسی ریاستوں میں، لازماً بچانا ہوگا،مشی گن میں عبدالسید کی پرائمری کامیابی کے بعد ڈیموکریٹس نے انہیں متحد ہو کر سپورٹ کرنا شروع کیا ہے، لیکن عام انتخاب میں انہیں ایک مختلف اور زیادہ وسیع ووٹر اتحاد بنانا ہوگا
گو کے میڈیا میں آج کے پولز اور انتخابی ماحول کو بنیاد بنایا جائے تو ریپبلکنز اب بھی معمولی طور پر سینیٹ برقرار رکھنے کے فیورٹ ہیں، لیکن ان کی اکثریت بہرحال محفوظ نہیں دکھائ جارہی ، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے لاطینی آبادی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے امیگریشن پالیسیوں پر شدید ناراض ہے اور ملک کی بارہ سے تیرہ فیصد سیاہ فام آبادی بھی کسی طور خوش نظر نہیں آتی ، اگر اس معاملے کو صاف لفظوں میں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا امریکہ میں سینتیس سے ساڑھے اڑتیس فیصد آباد اقلیتوں کے ساتھ قریبا تنتالیس فیصد گوری آبادی ملک میں موجود حکومتی پالیسیوں کے ساتھ نظریاتی اختلاف بھی رکھتی ہے، تاہم میڈیا ابھی
ایک محتاط انتخابی منظرنامے میں ریپبلکنز تقریباً 50 سے 52 نشستوں کے ساتھ کامیاب بتا رہا ہے ، اور ڈیموکریٹس اور ان کے اتحادی تقریباً 48 سے 50 تک کامیابی کے جھنڈے گاڑتے بتائے جارہے ہیں
لیکن اگر ڈیموکریٹس شمالی کیرولائنا، مین، اوہائیو اور ٹیکساس جیسی اہم ریپبلکن نشستیں جیت لیتے ہیں اور اپنی موجودہ نشستوں میں کوئی نقصان نہیں ہونے دیتے تو وہ 51 یا اس سے زیادہ تک پہنچ کر سینیٹ کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں
یعنی موجودہ نقشہ یہ نہیں کہ ’’ریپبلکن سینیٹ ہار رہے ہیں‘‘۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ ریپبلکن اکثریت خطرے میں ہے اور ڈیموکریٹس کے پاس سینیٹ واپس لینے کا حقیقی راستہ موجود ہے
اس جنگ کا فیصلہ چند ریاستیں کریں گی، مگر ان ریاستوں کے اندر بھی ایک گروپ سب سے اہم ہوگا: لاطینی ووٹر
ٹیکساس میں تقریباً 40 فیصد آبادی کا ہسپانوی ہونا، ایریزونا میں 31 فیصد، نیواڈا میں تقریباً 30 فیصد اور فلوریڈا میں 27 فیصد ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی سینیٹ کی آئندہ سیاسی طاقت کی جنگ صرف سفید فام، سیاہ فام یا روایتی ڈیموکریٹ اور ریپبلکن ووٹر کے درمیان نہیں رہی
2026 میں لاطینی ووٹر صرف ایک ووٹ بینک نہیں، سینیٹ کی اکثریت کا فیصلہ کرنے والی طاقت بن سکتا ہے، جہاں سب سے دلچسپ ترین بات یہ بھی ہے ، ابھی کچھ عرصے پہلے تک امریکی انتخابی سیاست میں 76 لاکھ جیوئش امریکن جنکے ساڑھے تین ملین ووٹوں کے ساتھ ڈالروں کی بوریاں قریبا حرف آخر سمجھی جاتی تھیں مگر ریپبلکن کی موجودہ حکومت کی پالیسوں نے چار ساڑھے چار کروڑ ووٹ رکھنے والے لاطینی امریکنز کو جیسے گہری نیند میں غرق سوتے سے اٹھا دیا ہو اور اب ان کے ووٹ ہی قومی طرز سیاست ، معشیت کے ساتھ باقی ریاستی امور چلانے کا فیصلہ کرنے جارہے ہیں

مزید پڑھیں